تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 201
عرب نہ ہو اگرچہ وہ عجمی یعنی غیر عربی زبان فصیح بولتاہو۔(اقرب) تفسیر۔کفار کے اس اعتراض کا جواب کہ کوئی بشر آنحضرت ؐ کو سکھاتا ہے اس آیت میں کفار کاایک اوراعتراض بیان کیا گیا ہے جوآج تک مسلمانوں اور مسیحیوں کامحلِ نزاع بناہواہے۔میں آیت کامفہوم بیان کرنے سے پہلے اس اعتراض کی حقیقت بیان کرتاہوں۔جیساکہ آیت کے الفاظ سے ظاہر ہے اس میں کفار کا یہ اعتراض بیان کیاگیاہے کہ محمد رسو ل اللہ پر الہام نہیں ہوتا بلکہ ان کو ایک آدمی یہ باتیں سکھاتاہے۔گوقرآن کریم نے اس شخص کانام نہیں بتایا۔لیکن عبارت سے ظاہر ہے کہ کفار کااعتراض اس موقعہ پر یہ نہ تھا کہ اسے کوئی نامعلوم شخص سکھاتاہے بلکہ اس موقعہ پر ان کا اعتراض کسی خاص شخص کے متعلق تھا جس کا وہ اپنے پروپیگنڈامیں نام بھی بتاتے تھے۔قرآ ن کریم نے گواس کی شخصیت کا اظہار نہیں کیا۔مگریہ بتایا ہے کہ جس شخص پر وہ اعتراض کرتے تھے وہ اعجمی تھا اوراسی بنا پر ان کے اعتراض کوردّکیا ہے اورتوجہ دلائی ہے کہ ایک اعجمی کی مددسے یہ کتاب جو عَرَبِیٌّ مُّبِیْنٌ زبان میں ہے کیونکر تیار ہوسکتی تھی۔مفسرین نے اس اعتراض کے متعلق مختلف واقعات بیان کئے ہیں۔ایک روایت یہ ہے کہ جویطب بن عبدالعزّٰی کاایک غلام جس کانام عائش یایعیش تھا وہ پہلی کتب پڑھاکرتاتھا اوراسلام لے آیا تھا اوراسلام پر مضبوطی سے قائم رہاتھا۔مکہ کے لوگ اس کی نسبت الزام لگاتے تھے کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سکھاتا ہے (روح المعانی زیر آیت ھٰذا)۔فراءؔ اورزجاجؔکایہی قول ہے اورمقاتلؔ اورابن جبیرکاقول ہے کہ مکہ کے لوگ ابو فکیہ پر الزام لگایاکرتے تھے کہ وہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)کوسکھاتاہے۔(روح المعانی زیر آیت ھذا) بعض نے کہا ہے کہ ابوفکیہ کانام یسارؔتھا اوروہ مکہ کی ایک عورت کاغلام تھا اوریہودی تھا۔بیہقی اورآدم بن ابی ا یاس نے عبداللہ بن مسلم الحضرمی سے روایت کی ہے کہ وہ کہاکرتے تھے کہ ہمارے دونصرانی غلا م تھے وہ عین التمر کے رہنے والے تھے۔ان میں سے ایک کانام یساراور دوسرے کانام جبرتھا۔دونوں مکہ میں تلواریں بنایاکرتے تھے اورکام کرتے وقت انجیل بھی پڑھتے تھے۔رسول کریم بازار سے گزرتے ہوئے ان کو انجیل پڑھتے ہوئے دیکھ کر کچھ دیر کے لئے وہاں ٹھیر جاتے۔(فتح البیان زیر آیت ھذا نیزروح المعانی زیر آیت ھذا) ایک روایت میں ہے کہ ان میں سے ایک سے لوگوں نے پوچھا کہ اِنَّکَ تُعَلِّمُ مُحَمَّدًا۔کیاتم محمدؐ کوسکھاتے ہو؟فقالَ لَا بَلْ ھُوَ یُعَلِّمُنِیْ۔اس نے کہا نہیں بلکہ محمدؐ مجھے سکھاتے ہیں۔(روح المعانی زیر آیت ھذا)