تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 199 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 199

سے خالی ہو اورمفتری کاکلام پاکیزگی کی روح سے معمو رہو۔(۲)دوسراجوا ب اس میں یہ دیا گیا ہے کہ یہ کلام حق پر مشتمل ہے۔جہاں کہیں اس کلام نے پہلی کتب سے اختلاف کیا ہے۔اگر وہ اختلاف زمانہ کے بدلنے کے سبب سے نہیں توتم دیکھو گے کہ عقلِ انسانی اسی بات کی تصدیق کرے گی جو قرآن کریم نے بیان کی ہے اوراسے رد کرے گی جو پہلی کتب میں بیان ہواہے۔یہ بھی ایک زبردست ثبوت قرآن کریم کی سچائی کاہے۔مثلاً حضرت ہارون کاواقعہ ہی لے لو۔قرآن میں لکھاہے کہ انہوں نے شرک نہیں کیا (طہ:۹۱)۔اب اول توعقلاً ایک نبی کی طرف شرک کامنسوب کرنا کسی صورت میں جائز نہیں۔لیکن عقلی بحث کوجانے دوخود بائبل اپنے اس بیان کی تردید کررہی ہے۔کیونکہ جنہوں نے بچھڑابنایاتھا بائبل کے بیان کے روسے انہیں قتل کروایاگیاتھا۔لیکن اس واقعہ کے معاً بعد ہارونؑ سے بائبل کے رو سے یہ سلوک کیاگیا کہ کہانت ان کی نسل کے لئے مخصوص کردی گئی اورانہیں اللہ تعالیٰ نے خا ص عزت بخشی۔یہ سلوک جو ان سے بچھڑے کے واقعہ کے معاً بعد بائبل میں بیان ہواہے بتاتاہے کہ اس موقعہ پر ان کارویہ قابل تعریف تھا۔اوربائبل نے جو شرک میں شمولیت ان کی طرف منسوب کی ہے خود اس کی اپنی شہادت کے روسے باطل ہے۔(خروج باب ۴۰ آیت ۱۲تا۱۵باب ۳۲ آیت ۲۷،۲۸) غرض قرآن کریم کو جہاں جہاں بھی پہلی کتب سے اختلاف ہے اس کی بات کی عقلاً یانقلًاتصدیق ہوجاتی ہے۔اوراس کے خلاف بیانات کی تردید یاعقل کردیتی ہے یانقل یادونوں ہی سے اس کی تردید ہوجاتی ہے۔پس اس امر کی موجودگی میں پہلی کتب سے اس کااختلاف اس بات کی علامت نہیں کہ قرآن کریم کومحمدؐ رسول اللہ نے بنایا ہے اللہ تعالیٰ نے نازل نہیں کیا۔بلکہ اس امر کا ثبوت ہے کہ وہ تازہ بتازہ محفوظ کلام ہے اورپہلے کلام محرّف مبدّل ہوگے ہیں۔(۳)تیسری دلیل اس اعتراض کے جواب میں اس آیت میں یہ دی گئی ہے کہ قرآن ہدایت مجسم ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ اوربندے کے درمیان صحیح تعلق قائم کرتا ہے اوراسے خدا تعالیٰ تک پہنچاتاہے اوریہ کام افتراءوالے کلام سے ناممکن ہے۔پس جب اس پر چل کر انسان خدا سے تعلق پیداکرلیتا ہے۔اورپہلی کتب سے نہیں۔تومعلوم ہواکہ گووہ نزول کے لحاظ سے سچی کتب تھیں مگر موجود ہ زمانہ کے لحاظ سے وہ مردہ ہیں۔اوراس غرض کوپورانہیں کررہیں جوان سے متوقع ہے۔پس اختلاف کی صورت میں ان کاقول غلط ہے اورقرآن کا درست۔(۴)چوتھی دلیل یہ بیان فرمائی ہے کہ یہ مومنوں کے لئے بشارت ہے یعنی اس پر چل کرانسان اللہ تعالیٰ کے فضلوں کاوارث ہوتا ہے۔اوراس کے نشانات اس کی تائید میں دکھائے جاتے ہیں۔اگر یہ جھوٹاہوتا تواس پر چلنے