تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 186 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 186

ثمن قلیل ہی ہوں گی۔مگرجو کچھ تمہیں اللہ تعالیٰ کے ہاں سے ملے گاوہ تمہارے لئے اس سے کہیں بہترہوگا اورآج تم اس کو جان بھی نہیں سکتے۔مکہ میں رہتے ہوئے مسلمان اس پیشگوئی کوسمجھ بھی نہ سکتے تھے۔حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ آیت’’سَیُھْزَمُ الْجَمْعُ وَیُوَلَّوْنَ الدُّبُرَ۔‘‘(القمر:۴۶)اس وقت تک کہ جنگ بد رواقع نہ ہوگئی اورمکہ فتح نہ ہوگیا۔میری سمجھ میں پوری طرح نہ آتی تھی(درمنثور سورۃ قمر)۔مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ١ؕ وَ لَنَجْزِيَنَّ جوکچھ تمہارے پاس ہے وہ ختم ہوجائے گااورجوکچھ اللہ(تعالیٰ)کے پاس ہے و ہ(ہمیشہ)باقی رہنے والا ہے الَّذِيْنَ صَبَرُوْۤا اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۰۰۹۷ اور(ہمیں اپنی ذات کی قسم ہے کہ)جولوگ ثابت قدم رہے ہیں ہم انہیں یقیناًان کے بہترین عمل کے مطابق(ان کے تمام اعمال صالحہ کا )بدلہ دیں گے۔حلّ لُغَات۔یَنْفَدُ۔یَنْفَدُ نَفِدَ سے مضارع کاصیغہ ہے۔اورنَفِدَ الشَّیْءُ (یَنْفَدُ نَفَادًا)کے معنے ہیں فَنِیَ وَ ذَھَبَ وَانْقَطَعَ۔کوئی چیز فنا ء ضائع اورختم ہوگئی (اقرب)پس یَنْفَدُ کے معنے ہوں گے کہ ختم ہوجائے گا۔تفسیر۔آیت میں دو باتوں کی طرف اشارہ اس میں یہ بتایاہے کہ رشوتوں کے مال جن کی وجہ سے لوگ قوم سے غداری کرتے ہیں آخر ختم ہوجاتے ہیں۔مگر وہ عزت جو اپنی قوم کی ترقی سے ملتی ہے وہ دیرپاہوتی ہے اوربہت بڑی ہوتی ہے۔دوسرے یہ بھی بتایا کہ آخر دشمن جو کچھ بھی دے گا محدود مال ہو گا۔لیکن وہ انعام جو نیکی اورتقویٰ اوروفاداری کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ سے ملے گاوہ ہمیشہ رہنے والاہوگا کہ ا س کافائدہ اس دنیاسے گذر کر اگلے جہان کی زندگی تک بھی پہنچے گا۔بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ میں اعلیٰ انعام کا اشارہ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَاس میں یہ بتایا ہے کہ ہم کنجوس گاہک کی طرح ردّی چیز کو چن کر باقی کو اس پر قیاس نہ کریں گے۔بلکہ جو عمل تمہارے اعلیٰ سے اعلیٰ ہوں گے ان کے مطابق تمام اعمال کو قرار دے کر ان کا اجر دیں گے۔نیز یہ بھی بتایا کہ ان کابدلہ ان کے اعمال سے زیادہ