تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 187
ہوگا۔کیونکہ لکھا ہے کہ ایک نیکی کا اجرکم سے کم دس گنا ملتاہے۔لیکن یہ قید لگادی کہ یہ انعام صرف انہی کو ملے گا جو صبر کریں گے یعنی مشکلات سے گھبرائیں گے نہیں اوردین کوبیچیں گے نہیں۔مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ جوکوئی مومن ہو نے کی حالت میں مناسب حال عمل کرےگا۔مردہوکہ عورت فَلَنُحْيِيَنَّهٗ حَيٰوةً طَيِّبَةً١ۚ وَ لَنَجْزِيَنَّهُمْ اَجْرَهُمْ ہم اس کو یقیناًایک پاکیز ہ زندگی عطاکریںگے اورہم ان( تما م لوگوں)کو ان کے بہترین عمل کے مطابق بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۰۰۹۸ ان (کے تمام اعمال صالحہ )کا بدلہ دیں گے۔تفسیر۔اسلام میں مرد و عورت کے حقوق کی مساوات اس آیت میں ایک طرف تومسلمانوں کو بتایا ہے کہ اسلام میں مرد اورعورت دونوں کے حقوق کو تسلیم کیا گیا ہے۔آئندہ جدوجہد میں ہرشخص کو مردہویاعورت اس کے عمل کے برابر بدلہ ملے گااورعورت ومرد میں فرق نہ کیا جائے گا۔دوسری طرف کفار کو یہ توجہ دلائی ہے کہ تم عورت کو مارتے ہو تم کو حکومت کس طرح دی جاسکتی ہے۔اب تووہ حکومت قائم کی جائے گی جس میں مرد اورعورت دونوں کے حقو ق محفوظ ہوں۔اسلام کی سچائی کا یہ کس قد رزبردست ثبوت ہے کہ ہزاروں سالوں کی انسانی زندگی کے بعد اس نے پہلی مرتبہ مرد اورعورت کے حقوق کو تسلیم کیا اوراس کے جاری کرنے کی اس وقت خبر دی جبکہ ابھی مسلمانوں کو حکومت بھی نہ ملی تھی اوراس کے باوجود ظالم دشمن اسلام پر اعتراض کرتے ہیں کہ اسلام میں عورتوں کے حقوق کی نگہداشت نہیں کی گئی۔