تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 185
ان آیات میں جو معاہدات پر اس قدر زوردیا گیا ہے۔اس میں اس امر کی خبر دی گئی ہے کہ مسلمان ساری دنیا پرچھاجائیں گے۔کیونکہ جس قوم کے معاہدات توڑنے سے دنیا میں فساد برپاہو جاتا ہے وہ وہی قوم ہوتی ہے جواپنے زمانہ میں سب اقوام پر غالب ہو۔ورنہ کمزور اقوام کو معاہدہ توڑنے کی جرأت ہی نہیں ہوسکتی اورنہ ان کے معاہدہ توڑنے سے دنیاپر کوئی زلزلہ آتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس عظمت کی خبر دیتے ہوئے نصیحت فرماتا ہے کہ تم اپنے معاہدات کو اچھی طرح نباہنا اورسمجھ سوچ کرمعاہدات کرنا۔افسوس ابتدائی زمانہ کے بعد مسلمانوں نے اس راز کونہ سمجھا اورتباہ ہوگئے۔ایک زمانہ تھا کہ جب مسلمان کالفظ مجسم اعتبار سمجھاجاتاتھااور کسی اورضمانت کی ضرورت نہ ہوتی تھی مگراب مسلمان کے لفظ سے زیادہ بے اعتبار لفظ کوئی نہیں۔اِنَّالِلہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔وَ لَا تَشْتَرُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِيْلًا١ؕ اور تم اللہ (تعالیٰ)کے (ساتھ کئے ہوئے )عہد کے بدلے میں(اس کے مقابل پر )حقیر(اورتھوڑی سی )قیمت اِنَّمَا عِنْدَ اللّٰهِ هُوَخَيْرٌ لَّكُمْ (رکھنے والی چیز)مت لو۔اگرتم علم رکھتے ہو تو(سمجھ لو کہ )جوکچھ اللہ(تعالیٰ)کے پا س ہے وہ تمہارے لئے اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۰۰۹۶ یقیناً(اس سے بدرجہا )بہترہے۔تفسیر۔چونکہ اس جگہ ترقیات اورحکومت کی پیشگوئیاں تھیں اورحکومت کے زمانہ میں دشمن سازش کرنے اورجاسوس رکھنے کی کوشش کیا کرتے ہیں۔جس کے لئے وہ اپنے مقابل فریق کے آدمیوں کو بڑی بھاری رقوم بھی پیش کرتے ہیں۔اوریہ زمانہ مسلمانوں پر بھی آنے والاتھا۔اس لئے پہلے سے ہی آگاہ کردیا کہ دیکھناایسی حرکت نہ کرنا۔تمہارے لئے کئی قسم کے لالچ پیداہوں گے اورایک زمانہ آئے گاکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے راز دریافت کرنے کے لئے مکہ والے تمہیں رشوتیں بھی پیش کریں گے مگر لَا تَشْتَرُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِيْلًا تم اللہ تعالیٰ کے عہد کو دنیا کی قیمت پر فروخت نہ کردینا یعنی کمزوری نہ دکھانا۔جوعہد کیا ہے۔اس کوضرورپوراکرنا۔یہ رشوتیں تو