تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 184
قوم کے ماتحت نہیں رہ سکتیں اورجوقومیں دوسری قوموں کو غلام بنا کر رکھنا چاہتی ہیں آخر اس غلامی کا نتیجہ خود ان اقوام کے ہی خلاف نکلتا ہے اوران اقوام کے اخلاق بگڑجاتے ہیں۔مسلمانوں کی تباہی کی بڑی وجہ یہی تھی۔ان کی آئندہ نسلیں گھرکے غلاموں ہی سے اخلاق سیکھتی تھیں اوراسی وجہ سے ہوتے ہوتے آخر کا ران کے اخلاق غلاموں کے سے ہوگئے۔اگر وہ قرآنی احکام پر عمل کرکے جلد سے جلد غلامی کو مٹادیتے توکبھی یہ دن دیکھناانہیں نصیب نہ ہوتا۔ان کی تباہی گویا وَ لَتُسْـَٔلُنَّ کاایک درد ناک نظار ہ تھی۔وَ لَا تَتَّخِذُوْۤا اَيْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَيْنَكُمْ فَتَزِلَّ قَدَمٌۢ بَعْدَ اور تم اپنی قسموں کو آپس میں فریب کرنے کاذریعہ مت بنائو۔ورنہ(تمہارا)قدم بعد اس کے کہ وہ(خوب مضبوطی ثُبُوْتِهَا وَ تَذُوْقُوا السُّوْٓءَ بِمَا صَدَدْتُّمْ عَنْ سَبِيْلِ سے )جم چکا ہو(پھر ) پھسل جائے گااور تم اس بدی کا مزہ چکھو گے کیونکہ تم نے (اس طرح سے اورلوگوں اللّٰهِ١ۚ وَ لَكُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ۰۰۹۵ کوبھی)اللہ(تعالیٰ)کی راہ سے روکا اور تم پر بڑاعذاب( نازل)ہوگا۔تفسیر۔معاہدات کی پابندی پر زور اس آیت میں لَا تَتَّخِذُوْۤا اَيْمَانَكُمْ کے الفاظ کو دہرایا ہے۔اس میں یہ بتانامقصود ہے کہ گومعاہدات کی بنیاد بدنیتی پر رکھنا اورمعاہدہ توڑنے کی نیت سے کرنا اصولاً بھی براہے لیکن مسلمانوںکے لئے خصوصاً براہے کیونکہ مسلمان دین حق کے حامل ہیں۔ان کے خراب رویہ کو دیکھ کر خواہ وہ سیاسی معاملات میں ہی کیوں نہ ہو لوگ دین سے بھی متنفر ہوجائیں گے۔اورخود مسلمانوںکے حق میں بھی یہ اچھا نہ ہوگا۔کیونکہ اس قسم کی باتوں سے وہ کمزو رہوجائیں گے اوران میں اضمحلال پیداہوجائے گا۔تَذُوْقُوا السُّوْٓءَ سے معاہدات کے توڑنے کے نتیجہ کی طرف اشارہ تَذُوْقُوا السُّوْٓءَ میں اس امر کی طرف اشارہ کیا ہےکہ اگر تم معاہدات توڑوگے توتم بھی دنیا کے فائدہ کی خاطر دین کوبھی نقصان پہنچائو گے۔یہ جو فرمایا کہ ایک قد م قائم ہونے کے بعد پھسل جائے گا۔اس میں قدم سے مراد مسلمانو ں کی حکومت کااستحکام ہے اورقدم کی تنکیر عظمت کے اظہار کے لئے ہےاوراس میں مسلمانوں کی حکومت کے قیام کی بشارت ہے۔