تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 183
وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ يُّضِلُّ اوراگراللہ (تعالیٰ)اپنی (ہی )مشیت نافذ کرتا تووہ تم(سب)کو ایک ہی جماعت بناتا۔لیکن(وہ ایسانہیں مَنْ يَّشَآءُ وَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَآءُ١ؕ وَ لَتُسْـَٔلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ کرتا۔بلکہ)جوشخص (گمراہی کو)چاہتاہے اسے وہ گمراہ کرتا ہے اورجو (ہدایت کو )چاہتاہے اسے وہ ہدایت دیتا تَعْمَلُوْنَ۰۰۹۴ ہے اورجوکچھ تم کیاکرتے ہو ا س کی بابت (قیامت کے دن ) تم سے پوچھا جائے گا۔تفسیر۔اللہ تعالیٰ کی تعلیم کو جبراً جاری نہ کرنے کی وجہ یہاں سوال ہوسکتاتھاکہ تعلیم تویہ بہت اعلیٰ ہے مگراللہ تعالیٰ نے ا س تعلیم کو جبراً کیوں نہ جاری کردیا کہ فسادات سے دنیا محفوظ ہوجاتی۔اس بارہ میں فرماتا ہے کہ بے شک اگراللہ تعالیٰ اپنی مشیت جاری کرتا توایسا ہی کرتا۔لیکن چونکہ انسان کومقدرت دے کر اس کاامتحان لینامقصود ہے اس لئے جو گمراہ ہوناچاہتاہے خدا تعالیٰ اسے گمراہ ہونےدیتاہے۔اورجو مومن بنناچاہتاہے اس کی راہنمائی ایمان کی طرف کرتا ہے اوراس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنے اعما ل کا جواب دہ بنایا ہے۔اوریہ امر جائز نہیں جب تک اسے قدرت دے کر آزادنہ چھوڑدیاگیاہو۔تاوہ اپنی مرضی سے ہدایت کایاگمراہی کا جوراستہ بھی پسند کرے اختیارکرلے۔اس آیت میں مسلمانوں کو نصیحت اس آیت میں مسلمانوں کو بھی نصیحت کی گئی ہے کہ ممکن ہے تمہارے دل میں یہ خیال پیداہوکہ ہم ایسے معاہدات اسلام کے فائدہ کے لئے کریں گے پھر وہ کیوں ناجائز ہونے لگے اورفرماتا ہے کہ ایسے معاہدات بہرحال ناجائز ہیں خواہ اسلام کی تائید کے لئے ہی کیوں نہ ہوں۔کیونکہ اگر ساری دنیا کا ایک طریق پر آجا نا تمام امور انصاف پرمقدم ہوتاتواللہ تعالیٰ خود ہی ایسا کرسکتا تھا۔وہ تم کو گناہ میں ملوث کیوں کرتا۔پس سب دنیا کا اسلام پر جمع کرنابھی ایسامقصدنہیں جس کے لئے یہ طریق اختیار کرناجائز ہو۔غرض اس آیت میں یہ بتایاگیا ہے کہ جوقوم بھی جبر سے اورتعدّی سے دنیا کو ایک کرنا چاہے گی وہ کبھی کامیاب نہ ہوگی۔اوراس کے ان اعمال کے متعلق اسے پوچھا جائے گا یعنی اس کی اس کو سزاملے گی۔مسلمانوں کی تباہی کی بڑی وجہ یہ ایک کھلی ہوئی بات ہے کہ بغیر رضامندی کے زیادہ دیر تک غیر اقوام کسی