تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 177
کے عہد اوراپنی قسموں کے بدلہ میں دنیوی فوائد اٹھاتے ہیں یقیناًان کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہ ہوگااور اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں سے کلام نہ کرے گااورنہ قیامت کے دن ان کی طرف(محبت سے)دیکھے گا۔اورنہ انہیں پاک قرار دے گااورانہیں دردناک عذا ب ملے گا۔ان آیات سے بھی ظاہر ہے کہ ’’عہداللہ‘‘سے مراداسلام قبول کرناہے۔(۳)پھر فرمایا ہے وَ لَقَدْ كَانُوْا عَاهَدُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ لَا يُوَلُّوْنَ الْاَدْبَارَ١ؕ وَ كَانَ عَهْدُ اللّٰهِ مَسْـُٔوْلًا (الاحزاب: ۱۶)۔فرمایا کہ ان لوگوں نے لَا يُوَلُّوْنَ الْاَدْبَارَ کاعہد کیا تھا مگراسے پورانہ کیا۔اوراللہ تعالیٰ سے جوعہد کئے جاتے ہیں ان کے توڑنے پرضرورپرسش ہوتی ہے۔لیکن جب ہم قرآن کریم میں دیکھتے کہ ان کا یہ عہد کہا ں مذکور ہے تومنافقوں کی طرف سے اس کا ذکر قرآ ن کریم میں کہیں نہیں ملتا۔ہاں اللہ تعالیٰ کاحکم ملتاہے۔چنانچہ سورۃ انفال میں ہےيٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِيْتُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوْهُمُ الْاَدْبَارَ(الانفال :۱۶)کہ اے مومنو! جب کفار سے تمہارامقابلہ ایسی حالت میں ہو کہ تم مل کر حملہ کرنے لگے ہوتوکبھی پیٹھ نہ پھیراکرو۔یہ اللہ تعالیٰ کااپنا حکم ہے منافقوں کاکوئی ایساعہد قرآن وحدیث میں مذکورنہیں۔آنحضرت ؐ کے زمانہ میں عہد اللہ سے مراد بیعت والا عہد تھا پس معلو م ہواکہ ’’عہداللہ‘‘سے مراد وہی بیعت والاعہد تھا جس میں سب نیک باتوں کے ماننے کاعہد کیا گیا تھا۔اورسب احکام الٰہی اس میں شامل تھے۔چنانچہ سور ۃ توبہ میں ا س عہد کی تشریح یوں کی گئی ہے اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ١ؕ يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ فَيَقْتُلُوْنَ وَ يُقْتَلُوْنَ١۫ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِيْلِ وَ الْقُرْاٰنِ١ؕ وَ مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ مِنَ اللّٰهِ فَاسْتَبْشِرُوْا۠ بِبَيْعِكُمُ الَّذِيْ بَايَعْتُمْ بِهٖ١ؕ وَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ۔(التوبۃ :۱۱۱)کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی جانیں اوران کے اموال اس وعد ہ کے مقابل کہ انہیں جنت ملے گی خرید لئے ہیں۔چنانچہ اس سودے کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کے دین کے لئے جنگ کرتے ہیں جس کے نتیجہ میں کبھی تو وہ دشمن کو قتل کردیتے ہیں کبھی خود مارے جاتے ہیں۔یہ جنت دینے کاوعدہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک پکا وعد ہ ہے جوتورات وانجیل اورقرآن سب میں بیان ہواہے۔اورجو اللہ تعالیٰ سے عہد کرکے اسے پوراکرتے ہوں ہم انہیں کہتے ہیں کہ اس نفع مند بیع پر جو تم نے کی ہے خوش ہوجائو اوریہ بیع ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔غرض قرآن مجید سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ ’’عہداللہ ‘‘سے مراد اسلام ہی ہے اوراِذَاعَاھَدْ تُّمْ کے معنے یہی ہیں کہ جب تم مسلمان ہوئے ہو تواسلام کی تعلیم پرپورے طورسے عمل کرو۔چونکہ اسلام کی تعلیم کاخلاصہ اِنَّ اللّٰہَ