تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 176 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 176

اللّٰهَ يَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَ۰۰۹۲ توڑو۔جوکچھ تم کرتے ہو اللہ(تعالیٰ اُسے )یقینا جانتاہے۔حلّ لُغَات۔کَفِیْلٌ: کَفَلَ الرَّجُلَ والصَّغِیرَ (کَفْلًا وَکَفَالَۃً)عَالَہٗ وَاَنْفَقَ عَلَیْہِ وَقَامَ بِہٖ۔کسی کی پرورش کی اوراس کے اخراجات کواٹھایا۔اس سے اسم فاعل کَافِلٌ ہے۔کَفَلَ بِالْمَالِ (کَفْلًا وَکُفُوْلًا)ضَمِنَہٗ۔کسی مال کاضامن ہو ا۔اوراس سے صیغہ صفت کَفِیْلٌ آتاہے کفیل کے معنے ضامن کے ہیں۔کَافِلٌ اورکَفِیْلٌ ایک ہی معنے رکھتے ہیں۔نیز لفظ کَفِیْلٌ مذکرومؤنث دونوںکے لئے استعمال ہوتاہے کہتے ہیں رَجُلٌ کَفِیْلٌ۔وَامْرَاَۃٌ کَفِیْلٌ۔اورلیثؔنے کَفِیْلٌ اورکَافِلٌ کے درمیان فرق کیا ہے۔کہتاہےکہ کَفِیْلٌ ضامن کو کہتے ہیں اورکَافِلٌ وہ شخص ہوتا ہے جو کسی کے اخراجات برداشت کرتاہے۔(اقرب) تفسیر۔عہد اللہ کی تشریح بِعَهْدِ اللّٰهِ۔عہداللہ سے کیا مراد ہے۔اس کی تشریح دوسری جگہ قرآن شریف میں آئی ہے (۱)اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔’’اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَکَ اِنَّمَایُبَایِعُوْنَ اللّٰہَ یَدُاللّٰہِ فَوْقَ اَیْدِیْھِمْ فَمَنْ نَکَثَ فَاِنَّمَایَنْکُثُ عَلیٰ نَفْسِہٖ وَمَنْ اَوْفٰی بِمَاعَاھَدَ عَلَیْہُ اللّٰہَ فَسَیُؤْتِیْہِ اَجْرًاعَظِیْمًا ‘‘ (الفتح :۱۱) وہ لوگ جوتیری بیعت کرتے ہیں وہ یقیناً اللہ کی بیعت کرتے ہیں اوراللہ کی مدد ان کے ساتھ ہوتی ہے۔پھر جو شخص اس بیعت کوتوڑ دیتاہے وہ اپنے نفس کانقصان کرتاہے اورجواس ’عہداللہ‘ کوپوراکرتاہے تواس کو خدا تعالیٰ اجرعظیم دے گا۔عہد اللہ سے مراد اسلام قبول کرنا ہے اس آیت سے معلو م ہواکہ ’’عہداللہ ‘‘ سے مراد اسلام ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی زندگی میں آپ کی بیعت مراد ہوتی تھی اورآپ کے بعد اسلام میں داخل ہونا۔(۲)اللہ تعالیٰ کفار کاقول نقل کرتے ہوئے فرماتا ہے وَقَالَتْ طَّآئِفَۃٌ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ اٰمِنُوْا بِالَّذِیْ اُنْزِلَ الآیہ(ال عمران:۷۳)۔کہ کفار کہاکرتے تھے کہ تم صبح کے وقت مسلمان بن جائو اورشام کو مرتد ہوجانا۔اسی تسلسل کے ضمن میں چند آیات کے بعد فرماتا ہے بَلٰى مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ وَ اتَّقٰى فَاِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِيْنَ۔اِنَّ الَّذِيْنَ يَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ اَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيْلًا اُولٰٓىِٕكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ وَ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ وَ لَا يَنْظُرُ اِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَ لَا يُزَكِّيْهِمْ١۪ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ(اٰل عمران:۷۷۔۷۸)یوں نہیں جو تم کہتے ہو بلکہ بات یوں ہے کہ جواپنے عہد کوپوراکرے اورتقویٰ سے کام لے تو(اس کاانجام اچھا ہوگا کیونکہ)اللہ متقیوں سے پیارکرتاہے۔جولوگ اللہ تعالیٰ