تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 178 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 178

یَاْمُرُ والی آیت میں بتایاگیاتھا اس لئے اس کے بیان کرنے کے بعد اس آیت میں یہ تاکید کی گئی ہے کہ اب تم لوگ اس تعلیم کے مطابق عملدرآمد کرو۔اس آیت کے پہلے حصہ میں یہ بتایا ہے کہ خدا تعالیٰ کے ساتھ تم جو عہد کرتے ہو اس کو بھی پوراکرو۔اورجوتمہارے آپس میں معاہدات ہوتے ہیں ان کو بھی مت توڑو۔یعنی جب تم خدا تعالیٰ کوضامن کرکے کسی انسان سے معاہد ہ کروتوا س کو ضرو ر پوراکرو۔کیونکہ تم خدا تعالیٰ کو ضامن مقررکرچکے ہو۔پس خدا کانام لے کر کئے ہوئے معاہد ہ کو اگر تم توڑوگے توگویا خدا تعالیٰ کو بدنام کرنے والے بنوگے۔اورخدا تعالیٰ کوغیرت آئے گی اوراسے تمہیں سزادینی پڑے گی۔اس آیت میں پھر اسی مضمون کوقائم رکھا گیا ہے جو پہلی آیت میں بیان ہواتھا۔یعنی حقوق اللہ اورحقوق العباد دونوں کوپوراکرنے کا حکم دیاگیاہے۔گویااسلام اورعہدالٰہی اللہ تعالیٰ اوربندوں کے صحیح تعلق پیداکرنے کے دونام ہیں۔حقوق اللہ اور حقوق العباد کو پورا کرنے کا حکم یہاں جویہ فرمایا کہ اس عہد کو پوراکرو جس میں تم نے اللہ تعالیٰ کو ضامن مقرر کیاہو اس کا یہ مطلب نہیں کہ دوسرے عہد پورے نہ کرو توکوئی حرج نہیں۔کیونکہ خدائی عہد میں سچ بولنا شامل ہے۔بلکہ ان الفاظ سے اس مضمون کی طرف اشارہ کیاہے کہ انہی عہدوں کی پابندی انسان پر فرض ہے کہ جن کاضامن اللہ تعالیٰ ہو۔جن عہدوں کاضامن اللہ تعالیٰ نہ ہو ان کاپوراکرنا غیرضروری ہی نہیں بلکہ گناہ ہے۔مطلب یہ کہ ہروہ عہدجو انصاف اورسچائی پر مبنی ہو اس کا اللہ تعالیٰ ضامن ہوتاہے۔کیونکہ وہ ہرمومن سے سچائی کاعہد لے چکا ہے اورجو شخص اس عہد کے بعد کسی انسان سے کسی جائزامرکااقرار کرتا ہے وہ اس عہد کے ساتھ گویا خدا تعالیٰ سے بھی ایک عہد باندھتاہے اورخدا تعالیٰ ا س عہد کاضامن ہو جاتا ہے۔لیکن جو عہد کسی ناپاک امریاظلم کے متعلق ہو ا س کاپوراکرناضرور ی نہیں بلکہ گناہ ہے اللہ تعالیٰ اس عہد کا ضامن نہیں کیونکہ وہ گناہ اورناپاکی کے لئے ضامن نہیں ہوتا۔غرض اللہ تعالیٰ کے ضامن ہونے سے اس طرف اشارہ نہیں کیا کہ جن عہدوں پرقسم کھائو صرف انہیں پوراکرو۔بلکہ اس مضمون کی طرف اشار ہ کیا ہے کہ سب وہ عہد جو عدل ،احسان اورایتاء ذی القربیٰ کے مطابق ہوں انہیں پوراکرو اوروہ عہد جن میں فحشاء ،منکر اوربغی کارنگ پایا جاتاہوانہیں پورانہ کرو۔ان کے بارہ میں تم سے کوئی سوال نہ ہوگا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کاضامن نہیں۔بلکہ اُن سے منع کرتا ہے۔مذکورہ بالا حکم میں ان لوگوں کے لئے ہدایت ہے جو اگر کسی ناجائز امر پرقسم کھا لیتے ہیں توعہد کی پابندی کے نام سے اس پر مصر رہتے ہیں۔