تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 175
اورساری جان‘‘والی بات کیا حقیقت رکھتی ہے ؟ متی کے اس حکم کادوسراحصہ یہ ہے۔’’دوسرااس کی مانند یہ ہے کہ اپنے پڑوسی سے اپنے برابر محبت رکھ۔‘‘اول تویہی خلاف عقل ہے کہ اس حکم کو پہلے کی مانند قرار دیاجائے بے شک یہ ضروری حکم ہے مگر اسے پہلے حکم کی مانند قرار نہیں دیاجاسکتا۔خدا تعالیٰ بہرحال مقدم ہے۔مانند ماننے کاتویہ مطلب ہے کہ اگر کبھی خدا تعالیٰ کاحکم اورپڑوسی کی خواہش ٹکراجائیں توہم ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائیں اورکہیں کہ یہ دونوں پہلو برابر ہیں یہ بھی ویساہی پیاراہے اوروہ بھی۔ایک کودوسرے پر کس طرح ترجیح دی جائے۔عیسائیت کی تعلیم کا معیار صفت عدل سے بڑھ کر نہیں اورپھر یہ حکم بھی عدل سے اوپر نہیں جاتا۔کیونکہ اس میں ہرشخص کو یہ حکم دیاگیا ہے کہ وہ اپنے پڑوسی سے اپنے جیسی محبت کرے۔توگویایہ وہ پہلا مقام ہے جس کواسلام نے عدل قرار دیا ہے یازیادہ سے زیادہ احسان کا مقام ہے مگر اسلام اس مقام سے انسان کو اوپر لے جاتاہے اورفرماتا ہے کہ نہ صرف تم عدل کرو اورنہ صرف احسان کرو بلکہ تم بنی نوع انسان سے ایسا سلوک کرو جس میں کسی قسم کی ریاء یابدلے کی خواہش کاشائبہ بھی نہ ہو۔جس طرح ماں اپنے بچہ سے محبت کرتی ہے وہ اُسے اپنے برابرنہیں چاہتی بلکہ اپنے آپ کو اس کے آرام کے لئے قربان کردیتی ہے۔اس کے علاوہ قرآن کریم نے اس آیت میں نیکی اوربدی کے جومدارج بیان فرمائے ہیں اورپھر جو ان کی ترتیب بیان فرما کر ان سے بچنے کی راہنمائی کی ہے وہ انجیل میں کہا ں؟پھر قرآن مجید نے اس حکم میں مختلف فطرتوں کالحاظ رکھتے ہوئے ایک جامع تعلیم دی ہے۔مگرانجیل میں ان سب باتوں کو نظرانداز کردیاگیاہے۔پس قرآن کریم کی تعلیم ہی جامع۔کامل۔قابل عمل اوراعلیٰ ہے۔وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ اِذَا عٰهَدْتُّمْ وَ لَا تَنْقُضُوا الْاَيْمَانَ اور(چاہیے کہ )اللہ(تعالیٰ)کے (ساتھ کئے ہوئے اپنے )عہد کو جب تم نے (اس سے کو ئی )عہد کیا ہوپوراکر و بَعْدَ تَوْكِيْدِهَا وَ قَدْ جَعَلْتُمُ اللّٰهَ عَلَيْكُمْ كَفِيْلًا١ؕ اِنَّ اورقسمو ںکوانہیں پختہ کرنے کے بعد جبکہ تم نے اللہ(تعالیٰ)کو (اس کی قسم کھا کر )اپنا ضامن بنالیا ہے مت