تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 174
فطرت انسانی کی محبوب ترین اشیاء کی تفصیل دیکھو اس میں ہرقسم کے انسانوں کے لئے خدا تعالیٰ سے محبت کامعیار بتادیاہے۔بعض لوگ جن میںاحسان کی قدر کامادہ زیادہ ہوتاہے انہیں اپنے ماں باپ سے زیادہ محبت ہوتی ہے۔قرآن مجید نے ان لوگوں کے لئے فرمایاکہ قُلْ اِنْ کَانَ اٰبَآؤُکُمْ اگرتم خداکے مقابلہ میں اپنے آباء سے زیادہ محبت کرتے ہو توتم ابھی تک مومن نہیں۔بعض لوگوں کے اندر بقائے نسل کاتقاضابہت نمایاں ہوتا ہے اوروہ اپنی اولاد کو سب سے زیادہ پیا رکرتے ہیں ایسے لوگوں کے لئے ’’ابناء کم ‘‘ کالفظ فرماکر اس طرف اشار ہ فرمایا کہ جب تک تم اپنی اولاد سے بھی بڑھ کر خدا سے محبت نہ کروگے اس وقت تک تمہاراایمان قبولیت کے مقام پر نہیں پہنچ سکتا۔پھر کئی لوگوں کو جتھا سب سے پیارالگتاہے۔ایسے لوگوں کے لئے’’اِخْوَانُكُمْ‘‘کالفظ رکھ کر فرمایاکہ جب تک تم اپنے بھائیوںسے بھی زیادہ خدا تعالیٰ سے محبت نہ کروتم اللہ تعالیٰ کاقرب حاصل نہیں کرسکتے۔کئی ایسے ہوتے ہیں کہ جن پر شہوت کاغلبہ ہوتاہے۔اورانہیں اپنی بیویاں دنیا میں سب سے زیادہ پیاری ہوتی ہیں۔ایسے لوگوں کے لئے ’’اَزْوَاجُكُمْ‘‘کالفظ رکھا گیا اوربتایاگیا کہ اس صورت میں جب تک تم اپنی بیویوں کی محبت کو اللہ تعالیٰ کی محبت کے تابع نہ کروگے تم اللہ تعالیٰ کی رضاحاصل نہیں کرسکتے۔بعض لوگ اپنے قبیلے اورخاندان کو سب چیزوں پر ترجیح دیتے ہیں ان کے لئے ’’عَشِيْرَتُكُمْ‘‘کالفظ فرماکرتوجہ دلائی کہ جب تک اللہ تعالیٰ کو اپنے قبیلہ سے بھی زیادہ نہ چاہوگے اللہ تعالیٰ کاقرب حاصل نہیں کرسکتے۔بعض ایسے بخیل ہوتے ہیں کہ جنہیں روپیہ اپنی اولاد اورجان سے زیادہ عزیزہوتاہے۔بیسیوں ایسے لوگ دیکھے گئے ہیں جنہوں نے باوجود مالدارہونے کے اپنی اولاد کے لئے کوئی دوائی تک منگاکرنہ دی اورو ہ ان کے سامنے تڑپ تڑپ کرمرگئی توایسے لوگوں کے لئے فرمایاکہ اپنے اموال کو بھی خدا تعالیٰ کی محبت پر مقدم نہ رکھو ورنہ کبھی نیکی کا اعلیٰ مقام نہ پاسکو گے۔بعض لوگ اس طبیعت کے ہوتے ہیں کہ و ہ اپنے ملک اوروطن کی خدمت کو اپنی ہرایک چیز پر مقدم سمجھتے ہیں اوران کانعرہ ہی حُبُّ الْوَطَنِ مِنَ الْاِیْمَانِ ہواکرتاہے۔جیساکہ ہمارے ملک میں ہجرت کے زمانہ میں ہزاروں لوگ اپنی اولاد،جائداد اوراموال چھوڑ کر ملک کی محبت کے نام پر ملک بدر ہوگئے۔ایسے لوگوں کے لئے فرمایاکہ اگرتمہیں اپنے وطن اورگھر خدا سے زیادہ پیارے ہیں توتم ابھی مومن نہیں ہو۔قرآن کریم نے عد ل کی یہ مختصرسی تشریح فرمائی ہے اب اس تعریف کے مقابلہ میں ’’سارے دل ساری عقل