تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 173
جاتی ہے اوریہ رواج حضر ت عمر بن عبدالعزیز اموی خلیفہ کے عمل سے شروع ہواہے (تاریخ الخلفاء ذکر عمر بن عبد العزیز)۔اس امرسے ظاہر ہے کہ مسلمان ابتداہی سے ا س آیت کی اہمیت کو سمجھتے رہے ہیں۔عیسائی اس آیت پر بہت چڑتے ہیں اورویری نے تویہاںتک لکھ دیا ہے کہ مسلمان اس تعلیم کو اعلیٰ اعلیٰ کہہ کرپیش کرتے ہیں(تفسیر القرآن از وہیری) وہ ہمارے مسیح کی تعلیم سے تواس کامقابلہ کریں جو متی باب۲۲۔۳۷۔۳۹میں بیان ہے جہاں لکھا ہے ’’خداوند اپنے خدا سے سارے دل اوراپنی ساری جان اوراپنی ساری عقل سے محبت رکھ بڑااورپہلاحکم یہی ہے اوردوسرااس کی مانند یہ ہے کہ اپنے پڑوسی سے اپنے برابرمحبت رکھ۔‘‘حالانکہ مسیح کی اس تعلیم پر عیسائیوں کافخر بالکل بے جااورفضول ہے۔قرآن مجید کی تعلیم کے مقابلہ میں اس تعلیم کو پہلے قد م کی سی حیثیت حاصل ہے۔عیسائیت کی تعلیم کا مقابلہ اسلامی تعلیم سے بے شک مسیح نے کہا کہ ’’خدا سے اپنے سارے دل اورساری جان اورساری عقل سے محبت رکھ‘‘۔مگرسوال یہ ہے کہ دل کس نے دیا ؟جان کس نے دی ؟عقل کس نے عطافرمائی ؟ اللہ نے۔پس ان کے ساتھ جو بھی محبت کی جائے گی۔وہ عدل کے مقام سے اوپر نہیں جاسکتی ہاں عدل کالفظ اس فقرہ سے بہت زیادہ وسیع ہے کیونکہ ان چیز وں کے علاوہ اوربھی چیزیں ہیں جن کی قربانی ضروری ہوتی ہے مثلاً احساسات و جذبات۔جب تک انسان اپنی ہر ایک خواہش ہرایک ارادہ اوردنیا کی ہرچیز سے بڑھ کر خدا سے محبت نہ کرے گاتووہ عدل کرنے والا نہیں کہلاسکتا۔بے شک ساری جان سے محبت کرنا اچھی بات ہے مگر کئی لو گ ہیں جو اپنی جان سے بڑھ کر اپنی اولاد سے زیادہ محبت کرتے ہیں اور کئی ایسی طبائع ہیں جو اپنے دل اوراپنی جان کی نسبت مال سے زیادہ پیا رکرتے ہیں۔اور کئی اس فطرت کے ہوتے ہیں جواپنی عزت و ناموس کی خاطراپنی جان تک قربا ن کردینے سے دریغ نہیں کرتے۔توخالی ساری جان ،سارے دل اورساری عقل کے لفظ کے اند ر ہرقسم کی قربانی اورخدا تعالیٰ سے کامل محبت جس کو عدل کالفظ ظاہرکرتاہے نہیں آسکتی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں دوسری جگہ مختلف قسم کے جذبا ت کویوں بیان فرمایا ہے قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِيْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ ا۟قْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَيْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِيْ سَبِيْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى يَاْتِيَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ( التوبۃ :۲۴)کہہ دے کہ اگرتمہیں اپنے آباؤاجداد یااپنی اولاد یااپنے بھائی یااپنی بیویاں یااپنی قوم اورقبیلہ یااپنے اموال اورتجارتیں خدااوراس کے رسول سے اوراس کی راہ میں جہادسے پیارے ہیں توتم وہ چیز نہیں ہوجوقبول کئے جانے کے لائق ہوپس انتظارکرو یہاں تک کہ خدا تعالیٰ کافیصلہ آجائے۔اللہ تعالیٰ فاسق قوم کوکبھی کامیاب نہیں کرتا۔