تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 172 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 172

بیان کرتی ہے تاکہ بدوںکو بدی چھڑانے میں مدد دے اورنیکوں کی نیکی کے حصول میں اعانت کرے۔ایک بدی میں ڈو بے ہوئے انسان کو یہ کہنا کہ توایسانیک ہوجا کہ سب دنیا کاسہاراتوہی ہو اورتوسب کے لئے بمنزلہ ماں کے ہوجا۔ایسا ہی بے فائدہ ہوگا جیسے ایک الف،ب پڑھنے والے کوایم۔اے کاکورس شروع کرادینا۔اسی طرح ایک اعلیٰ درجہ کے نیک آدمی کویہ کہنا کہ دیکھو بغاوت اورسرکشی نہ کرو اورظلم نہ کروبالکل فضول بات ہوگی۔جو شرارت میں بڑھاہواہواس سے پہلے بڑی بدیا ں چھڑوائی جائیں تبھی اصلاح ممکن ہے۔اورجو نیکی میں ترقی کررہاہو اسے صرف باریک گناہوں سے ہوشیار رہنے کی تلقین کرنا کو ئی فائدہ نہیں دے سکتا۔کیونکہ بد ی کی عام راہوں کوتووہ پہلے ہی چھوڑ چکا ہے۔اوریہ سب خوبیاں اوپر کی تعلیم میں موجود ہیں۔وہ بڑی نیکی کی راہیں بھی بتاتی ہے اورچھوٹی نیکی کی بھی۔اوربڑی بدیوں سے بھی بچاتی ہے اورچھوٹیوں سے بھی۔اورہر شخص خواہ کسی درجہ کاہواس کو سمجھ سکتاہے اوراس پر عمل بھی کرسکتاہے۔ہر چیز کی تکمیل کے چھ درجے ہوتے ہیں اور ساتواں کمال کا یہ نکتہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ اس آیت میں تین درجے بدی کے اورتین درجے نیکی کے بیان فرمائے گئے ہیں۔چونکہ نیچر میں ہمیں یہ قانون رائج معلوم ہوتاہے کہ تکمیل سے پہلے ہرشے کو چھ مدارج طے کرنے پڑتے ہیں۔اس آیت میں گویا روحانی تکمیل کاسب نصاب بیان کردیاگیا ہے جسے پڑھ کر انسان ساتواں درجہ یعنی کمال کا مقام حاصل کرسکتاہے۔بدی سے نیکی کی طرف آنے کے مدارج جوبدیوں میں ڈوبے ہوئے لوگ ہیں انہیں پہلی جدوجہد بغی سے بچنے کے لئے کرنی پڑتی ہے۔اس دلدل سے نکلتاہے تومنکر کاکیچڑ آجاتاہے اورجب منکر کے کیچڑ سے نکلتاہے توفحشاء کے گردوغبارمیں پھنس جاتا ہے۔جب اس سے نجات پاتاہے تو عدل کے مرغزارکی حدشروع ہوجاتی ہے۔اسے قطع کرلیتا ہے تواحسان کاچمن آجاتاہے۔اسے طے کرلیتا ہے توایتا ء ذی القربیٰ کاچشموں والا باغ آجاتاہے اوراس کے آگے جنت ہی جنت ہے۔اسی مناسبت سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ماں کے قدموں کے نیچے جنت ہے (کنز العمال باب الثامن فی بر الوالدین۔الأم)۔اس آیت میں بھی ایتاء ذی القربیٰ کو جوماں کے سے سلوک پردلالت کرتا ہے تکمیل کاآخری اورجنت سے پہلا مقام بتایاگیاہے۔اورجنت کا مقام ذا کر کا ہے جو خدا تعالیٰ میں محو ہوجاتا ہے اورخدا تعالیٰ اس کے دل میں ڈیراجمالیتا ہے اورمحب اورمحبوب دائمی اورنہ ٹوٹنے والے رشتہ میں پروئے جاتے ہیں۔اس آیت کی اہمیت ابتداء اسلام سے ہی مسلّم ہے یہ آیت ہرجمعہ میں خطبہ کے دوسرے حصہ میں پڑھی