تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 152 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 152

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْۢ بُيُوْتِكُمْ سَكَنًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اوراللہ(تعالیٰ)نے تمہارے گھروں کو تمہاری رہائش کاذریعہ بنایاہے اوراس نے چارپایوں کے چمڑوں سے(بھی ) جُلُوْدِ الْاَنْعَامِ بُيُوْتًا تَسْتَخِفُّوْنَهَا يَوْمَ ظَعْنِكُمْ وَ تمہارے لئے گھر بنائے ہیں جنہیں تم سفر کے وقت ہلکا (پھلکا )پاتے ہو اور(نیز)اپنے قیام کے وقت (ان سے يَوْمَ اِقَامَتِكُمْ١ۙ وَ مِنْ اَصْوَافِهَا وَ اَوْبَارِهَا وَ اَشْعَارِهَاۤ فائدہ اٹھاتے ہو) اوران(جانوروں)کی باریک اُونوں اور(نیز)ان کی موٹی اونوں اوران کے بالوںکوبھی مستقل اَثَاثًا وَّ مَتَاعًا اِلٰى حِيْنٍ۰۰۸۱ سامان اور ایک وقت تک (کےلئے )عارضی سامان (بنایاہے)۔حلّ لُغَات۔سَکَنًاسَکَنًاسَکَنَ سے مصدر ہے۔اورسَکَنَ فُلَانٌ دَارَہٗ کے معنے ہیں اِسْتَوْطَنَھَا وَاَقَامَ بِھَا۔اپنے گھر میں قیام پذیر ہوا۔سَکَنَ اِلَیْہِ :اِرْتَاحَ اورجب سَکَنَ کاصلہ الیٰ آئے تواس کے معنے ہیں۔اُس نے اس کے پاس آرام پایا۔نیز اَلسَّکَنُ کے معنے ہیں۔کُلُّ مَایُسْکَنُ اِلَیْہِ وَفِیْہِ وَیُسْتَأْنَسُ بِہٖ۔ہروہ چیز جس سے انس و آرام حاصل ہو۔اَلرَّحْمَۃُ رحمت۔اَلْبَرَکَۃُبرکت۔(اقرب) بُیُوتٌ کے لئے دیکھو سورۃ حجر آیت نمبر۸۳۔تَسْتَخِفُّوْنَھَا تَسْتَخِفُّوْنَھَا اِسْتَخَفَّ سے مضارع جمع مخاطب کاصیغہ ہے۔اوراِسْتَخَفَّہُ کے معنے ہیں۔اسے ہلکاسمجھا (اقرب)۔یَوْمَ ظَعْنِکُمْ ظَعْنٌ ظَعَنَ کامصدر ہے اورظَعَنَ (یَظْعَنُ ظَعْنًا)کے معنے ہیں سَارَ۔وہ چل پڑا۔چنانچہ کہتے ہیں ’’ظَعَنُوْا عَنْ دِیَارِھِمْ ‘‘ کہ وہ اپنے گھروں کو چھوڑ کرکوچ کرگئے۔(اقرب)پس تَسْتَخِفُّوْنَهَا يَوْمَ ظَعْنِكُمْ کے معنے ہوں گے۔کہ تم کوچ کے وقت انہیں ہلکا سمجھتے ہو۔اَصْوَافٌ:اَصْوَافٌ صَوْفٌ کی جمع ہے۔بھیڑوں بکریوں کی اُون کوکہتے ہیں اوروَبَرٌ۔اونٹوں کی اون کوکہتے ہیں اس کی جمع اَوْبَارٌ ہے۔(اقرب) اَشْعَارٌ:اَشْعَارٌ شَعْرٌکی جمع ہے اوراَلشَّعْرُان سب قسم کے بالوں کو کہتے ہیں جو وبر اور صوف کے علاوہ