تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 151
یعنی میراممدوح ایساہے کہ جب و ہ لشکر لے کر نکلتا ہے توپرندے اس کے ساتھ اڑتے جاتے ہیں کیونکہ و ہ جانتے ہیں کہ یہ ضروراپنے دشمن کوماربھگائے گا اورہماری غذاکا سامان پیداہوجائے گا۔پرندوں کے مسخر ہونے کے ذکر سے کفار پر عذاب کی پیشگوئی امیر تیمور کے متعلق تاریخ میں آتاہے کہ جدھر وہ جا تاتھا اس کے لشکر کے ساتھ گدھ اڑتے جاتے تھے۔کیونکہ جدھر وہ جاتا تھا اس کو دشمن پر فتح حاصل ہوتی تھی اورگدھو ں کو اندرونی شعور سے یہ بات معلوم ہوگئی تھی کہ اس کے ساتھ جانے میں غذا ملتی ہے۔غرض پرندوں کا اڑنا درحقیقت محاورہ ہے کسی قوم کی شکست اورہلاکت کے اظہار کے لئے۔اوراس جگہ اسی طرف اشارہ کیا گیاہے۔قرآن شریف میں بھی آتا ہے اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِيْلِ۔اَلَمْ يَجْعَلْ كَيْدَهُمْ فِيْ تَضْلِيْلٍ وَّ اَرْسَلَ عَلَيْهِمْ طَيْرًا اَبَابِيْلَ۔تَرْمِيْهِمْ بِحِجَارَةٍ مِّنْ سِجِّيْلٍ(الفیل:۲ تا ۵)۔یعنی ابرہہ کالشکر جو مکہ پر حملہ کرنے آیاتھااس کو ہم نے ہلاک کردیا اورایسی بھاگڑ پڑی کہ وہ اپنے مردے جنگل میں چھوڑ گئے۔جس پر پرندے اکٹھے ہوگئے اوران کی بوٹیاں نوچ نوچ کر اورپتھروں پر مار مار کر انہوں نے کھائیں۔یہ بھی گدھوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ مردہ کی بوٹی نوچ کر کسی اونچی جگہ پر بیٹھ کر کھاتے ہیں اورمٹی سے صا ف کرنے کے لئے اُسے پتھر یالکڑی پر مار مارکرکھاتے ہیں۔ممکن ہے اس آیت میں اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہوکہ تم دیکھ چکے ہو اللہ تعالیٰ کے ایک دشمن کی لاشوں کو تمہاری آنکھوں کے سامنے پرندوں نے نوچ کر کھایاتھا وہی پرندے آسمان پر اڑ رہے ہیں اورہمارے حکم کے منتظر ہیں۔اس وقت تک ہم ہی نے مسلمانوںکو جہاد سے روکا ہواہے۔جب یہ جہاد کے لئے نکلیں گے توتمہاراابرہہ کے لشکر کاساحال ہوگا اورایسا ہی ہوا۔آیت کے آخر میں اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ کہنے کا مطلب آخر میں فرمایااِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ۔یعنی اس پیشگوئی پر آج تم کو تعجب آتاہوگا مگر جولوگ ایمان لائے ہیں وہ اس میں خدا تعالیٰ کے نشانات مشاہد ہ کررہے ہیں اورانہیں اس کے وقوع پر کامل یقین ہے۔