تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 153
ہوتے ہیں۔(اقرب) اَ لْاَثَاثُ:اَ لْاَثَاثُ: مَتَاعُ الْبَیْتِ بِلَاوَاحِدٍ۔اثاث کامفرد نہیں آتااورگھر کے سامان پر یہ لفظ بولتے ہیں۔وَقِیْلَ ھُوَ مَایُتَّخَذُ لِلْاِسْتِعْمَالِ وَالْمَتَاعِ لَالِلتِّجَارَۃِ۔اوربعض نے کہا ہے کہ اثاث ا س سامان کو کہتے ہیں جو استعمال اورفائدہ اٹھانے کے لئے بنایاجاتاہے نہ کہ تجارت کی غرض سے۔وَقِیْلَ الْمَالُ کُلُّہُ۔اوربعض نے اس کو عام رکھا ہے اورہرقسم کے سامان کو اس میں شامل کیا ہے۔(اقرب) تفسیر۔یعنی اس وقت تم آرام سے زندگی بسر کررہے ہو۔مستقل گھر بھی ہیں اورسفروں کے لئے خیمے بھی ہیں کہ آسانی سے اٹھاسکتے ہو۔اورجہاں ڈیرہ لگاناچاہو ڈیرے لگادیتے ہو۔اورتجارت کرتے پھرتے ہو۔اس انعام کو اپنے اعمال سے کیوں ضائع کرتے ہو۔خیموں کے متعلقتَسْتَخِفُّوْنَهَا کہنے کا مطلب خیموں کے متعلق جویہ فرمایا کہ تم انہیں سفراورحضر میں ہلکاپاتے ہو۔اس کایہ مطلب ہے کہ سفرکے وقت اٹھانا سہل ہوتاہے۔اوراقامت کے وقت گھرکاکھڑاکرنا آسان ہوتاہے۔چند منٹ میں جنگل میں شہر بن جاتاہے۔چمڑو ں کے خیموں کا ذکر اس لیے کیا کہ عربوں میں انہی کا رواج تھا (تفسیر کبیر از امام رازی زیر آیت ھذا )اور وہ بارش وغیرہ سے اور سردی سے بچانے کے لیے کپڑا کے خیمہ سے زیادہ اچھے ہوتے ہیں۔وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّمَّا خَلَقَ ظِلٰلًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ اوراللہ (تعالیٰ)نے جوکچھ پیدا کیا ہے اس میں اس نے تمہارے لئے کئی سایہ دینے والی چیز یں بنائی ہیں (جن کے نیچے الْجِبَالِ اَكْنَانًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ سَرَابِيْلَ تَقِيْكُمُ الْحَرَّ وَ تم آرام پاتے ہو )اورپہاڑوں میں (بھی )تمہارے لئے پناہ کی جگہیں بنائی ہیں اور(نیز)اس نے تمہارے لئے سَرَابِيْلَ تَقِيْكُمْ بَاْسَكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ يُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَيْكُمْ کئی (قسم کی)قمیصیں بنائی ہیں جو تمہیں گرمی سے بچاتی ہیں اور کئی (قسم کی )قمیصیں (یعنی زرہیں)جو تمہیں