تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 150 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 150

يُّؤْمِنُوْنَ۰۰۸۰ کےلئے اس میں یقیناًکئی نشان(پائے جاتے)ہیں۔حلّ لُغَات۔جَوٌّ:جَوٌّ:مَابَیْنَ السَّمَاءِ وَالْاَرْضِ زمین اورآسمان کی درمیانی فضا۔جَوُّالْبَیْتِ: دَاخِلُہٗ : گھرکااندرکاحصہ۔(اقرب) یُمْسِکُھُنَّ: یُمْسِکُ اَمْسَکَ سے مضارع کاصیغہ ہے اوراَمْسَکَ الشَّیْءَ بِیَدِہٖ کے معنے ہیں۔قَبَضَہٗ : کسی چیز کو ہاتھ سے پکڑا۔اَمْسَکَ اللہُ الْغَیْثَ: حَبَسَہٗ وَمَنَعَ نُزُوْلَہٗ اللہ تعالیٰ نے بارش کوروک دیا۔اَمْسَکَ عَنِ الْکَلَامِ:سَکَتَ کلام کرنے سے خاموش رہا۔اَمْسَکَ عَنِ الْاَمْرِ :کَفَّ عَنْہُ وَامْتَنَعَ:کسی کام سے رُکار ہا۔(اقرب)پس مایُمْسِکُھُنَّ کے معنی ہوں گے انہیں کوئی نہیں روکتا۔اَلْقَوْمُ:اَلْقَوْمُ اَلْجَمَاعَۃُ مِنَ الرِّجَالِ خَاصَّۃً وَقِیْلَ تَدْخُلُہُ النِّسَاءُ عَلٰی تَبِیْعَۃٍ سُمُّوْا بِذَالِکَ لِقِیَامِھِمْ بِالْعَظَائِمِ وَالْمُھِمَّاتِ قوم کا لفظ مردوں کی جماعت پر بولاجاتاہے اوربعض کہتے ہیں کہ اس میں عورتیں بھی بالواسطہ شامل ہوجاتی ہیں۔اورمردوں پر قوم کالفظ اس لئے بولتے ہیں کہ وہ اہم امور کو سرانجام دیتے ہیں۔یُذَکَّرُ وَیُؤَنَّثُ فَیُقَالُ قَامَ الْقَوْمُ وَقَامَتِ الْقَوْمُ۔یہ لفظ مذکر اورمؤنث دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔چنانچہ قَامَ الْقَوْمُ (مذکر)اورقَامَتِ الْقَوْمُ (مؤنث ) دونوں طرح کہہ دیتے ہیں۔(اقرب) تفسیر۔مفسرین کے نزدیک مسخرات فی جو السماء کے معنی مفسرین نے مُسَخَّرٰتٍ فِيْ جَوِّ السَّمَآءِ کے یہ معنے کئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بغیر ظاہری سامانوں کے ان کو جوّ میں اڑنے کی طاقت دی (تفسیر بیضاوی زیر آیت ھٰذا) اوریہ گویا اس کی قدرت کااظہار ہے۔مگریہ معنے صحیح نہیں۔اس آیت میں درحقیقت کفارکی سزاکا ذکر ہے۔اوراللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان پرندوں کوخدا تعالیٰ نے روکاہواہے مگرایک دن آئے گاکہ یہ پرندے تم پر گریں گے اور تمہاری لاشوں کو نوچ نوچ کرکھائیں گے جیساکہ بعد کی جنگوں میں ہواکہ کئی جنگوںمیں کفار میدان جنگ سے بھاگتے ہوئے راستوں پرلاشیں چھوڑ گئے اورو ہ پرندوں کی خوراک بنیں۔نابغہ ذبیانی کا ایک شعران معنوں کی تائید کرتا ہے وہ کہتاہے اِذَامَاغَدٰی بِالْجَیْشِ حَلَّقَ فَوْقَہٗ عَصَائِبُ طَیْرٍ تَھتَدِیْ بِالْعَصَائِبِ