تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 149
انسان کے جس قدر کمالات ہیں وہ انہی طاقتوں کی مدد سے حاصل کئے جاتے ہیں اوران طاقتو ں کے استعمال میں وہ کوئی سبکی محسوس نہیں کرتا۔مگر جب روحانی ذرائع کا سوال پیدا ہوتاہے تووہ کہتاہے مجھے ان کی کیاضرورت ہے میں خود اپنا کام کرسکتاہوں۔حالانکہ جس طرح اُسے مادی ترقی کے لئے عطاکردہ جوارح کی ضرورت ہے ا سی طرح روحانی کمالات کے حصول کے لئے اُسے ان سامانوں کی ضرورت ہے جواللہ تعالیٰ اپنی حکمت کاملہ سے اس کے لئے پیداکرتاہے۔آیت کے اخیر میں فرماتا ہے کہ ان چیزوںکے دینے کی غرض تویہ تھی کہ تمہارے اندر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی قدرپیداہو۔تم اُلٹا ان طاقتوں سے مغرور ہوجاتے ہو اورکہتے ہوکہ ہمیں کسی بیرونی مددکی ضرورت نہیں۔بچہ کے اعضاء کے کام کرنے کے متعلق سائنس کی قرآن مجید کے بیان کے مطابق تحقیقات اس آیت میں کانوں کے بعد آنکھوںاورآنکھوں کے بعد دلوں کا ذکر کیا گیا ہے اوراسی ترتیب سے یہ اعضاء انسان کے علم کے بڑھانے کاموجب ہوتے ہیں۔سب سے پہلے بچہ کے کان کام کرتے ہیں۔ان کے بعد آنکھیں اورسب کے بعد دل یعنی قوت فکریہ کام کرتی ہے۔آج سائنس نے ثابت کیا ہے کہ سب سے پہلے بچہ کے کان کام کرنے لگتے ہیں اوراس کے بعد آنکھیں کام شروع کرتی ہیں اورسب سے آخر میں قوت فکریہ کام کرنا شروع کرتی ہے۔چنانچہ جانوروں میں بچوں کی آنکھیں بعض دفعہ کئی کئی دن کے بعد کھلتی ہیں۔اس عرصہ میں صرف کان کام کررہے ہوتے ہیں۔انسانوں کے بچوں کی آنکھیں بظاہر کھلی ہوتی ہیں۔لیکن ان کا فعل کانوںکے فعل کے بعد شروع ہوتاہے اورقوت فکریہ تو ایک عرصہ کے بعد کام شروع کرتی ہے۔یہ ترتیب بھی قرآن کریم کے کلام الٰہی ہونے کا ایک ثبوت ہے کیونکہ اس میں وہ مضمون بیان کئے گئے ہیں جواس زمانہ میں مخفی تھے۔اَلَمْ يَرَوْا اِلَى الطَّيْرِ مُسَخَّرٰتٍ فِيْ جَوِّ السَّمَآءِ١ؕ مَا کیاانہوں نے پرندوں کو جوآسمان کی فضاکے اندر مسخر کئے گئے ہیں (غورکی نظر سے)نہیں دیکھاانہیں (تم پر يُمْسِكُهُنَّ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ آگرنے اورنوچ کھانے سے )اللہ(تعالیٰ)کے سوا(اور)کوئی نہیں روک رہا۔جولوگ ایما ن رکھتے ہیں ان