تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 136 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 136

شخص شریعت بنائے گا تووہ اپنا اوراپنی قوم کا فائدہ مدنظر رکھے گا۔مثلاًاگر شریعت کابنانامَردوں کے سپرد ہوگا تووہ عورتوں کے حقوق پوری طرح ادانہ کریں گے اوراگر امراء قانون بنائیں گے تووہ امراء کے حقوق کا خاص خیال رکھیں گے اورغرباء کے حقوق کو نظرانداز کردیں گے۔علیٰ ہٰذاالقیاس جوکوئی بھی قانون بنائے گا وہ اپنے حقوق کازیادہ خیا ل رکھے گااوردوسروں کے حقوق پو ری طرح ادانہ کرے گا۔اس لئے فرمایا کہ ہم نے شریعت بندوں کے اختیار میں نہیں رکھی تاایسانہ ہو کہ جس کے قبضہ میں کوئی نعمت آئی ہوئی ہووہ اُسے دباکے بیٹھا رہے۔اوراس کا بیان کرنا اپنے ذمہ رکھا ہے تاکہ عوام الناس کو جو بطورغلاموں کے ہیں اوراپنے حقوق منوانے میں کوئی آواز نہیںرکھتے ان کو ان کے حقوق دلوائے جاتے رہیں۔وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ اوراللہ(تعالیٰ)نے تمہارے لئے خود تم ہی سے بیویاں بنائی ہیں اور(نیز)اس نے تمہاری بیویوں سے تمہارے مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ بَنِيْنَ وَ حَفَدَةً وَّ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ١ؕ لئے بیٹے اورپوتے پیداکئے ہیں اوراُ س نے تمہیں تما م(قسم کی)پاکیزہ چیزوں سے رزق بخشا ہے کیاپھر اَفَبِالْبَاطِلِ۠ يُؤْمِنُوْنَ وَ بِنِعْمَتِ اللّٰهِ هُمْ يَكْفُرُوْنَۙ۰۰۷۳ (بھی)ایک ہلاک ہونے والی چیز پر (تو)وہ ایمان رکھیں گے اوراللہ(تعالیٰ )کے انعام کاوہ انکار کردیں گے حلّ لُغَات۔مِنْ اَنْفُسِکُمْ:اَنْفُسُ نَفْسٌ کی جمع ہے۔اورنَفْسُ الشَّیْءِ کے معنے ہیں عَیْنُہٗ۔خود وہی چیز(اقرب)پس مِنْ اَنْفُسِکُمْ کے معنے ہو ں گے۔کہ خود تم ہی میں سے۔حَفَدَۃً۔حَفَدَۃً جمع ہے اوراس کامفرد اَلْحَافِدُ ہے اوراس کے معنے ہیںاَلْخَادِمُ۔نوکر۔اَلنَّاصِرُ۔مددگار۔اَلتَّابِــعُ۔تابع۔وَلَدُالْوَلَدِ۔پوتا(اقرب) الباطل اَلْبَاطِلُ ضِدُّالْحَقِّ۔جھوٹ۔(اقرب) تفسیر۔توحید کامل کا تقاضا کامل رہنمائی ہے ان آیات میں بدل بدل کر شریعت کے نزول کی ضرورت اورشرک کے مضمون کو بیان کیاگیا ہے یونہی بے جوڑ طورپرنہیں۔بلکہ ایک دوسرے کی تائید کے لئے۔