تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 137 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 137

اوریہ ثابت کیاگیاہے کہ الہام کے بغیر انسان شرک جیسی مرض میں مبتلاہو جاتا ہے اورتوحید کامل تقاضاکرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں کی رہنمائی کرے۔کیونکہ جب خداایک ہی ہے توبندوں کی ہدایت کاکام کسی ودسرے پر کس طرح چھوڑ سکتا ہے۔اگر کئی خداہوتے تو ایک دوسرے پر کام چھو ڑدیتا۔جیسے بچوںکی نگرانی کاکام بعض دفعہ ماں، باپ پر چھو ڑ دیتی ہے اوربعض دفعہ باپ ،ماں پرچھوڑ دیتا ہے۔مگرایک ہی خالق،ایک ہی مالک کس پراس کام کوچھوڑ دے۔وہ توخود ہی کرے گا۔اسی طرح توحید کمال کو چاہتی ہے اوربنی نوع انسان کوکسی مقصد کے بغیر پیداکرنانقص پردلالت کرتا ہے۔اورتوحید کاعقیدہ اس کی اجازت نہیں دیتا۔شریعت اور بعث بعد الموت لازم ملزوم ہیں پس اگرانسا ن بغیر مقصد کے پیدا نہیں ہواتوپھر بعد الموت زندگی بھی ضروری ہے۔اوراگر وہ زندگی ضروری ہے توایسی وسیع زندگی کے لئے تیار کر نے کی غرض سے ایک شریعت اورہدایت کا خدا تعالیٰ کی طرف سے آنا بھی ضروری ہے۔پس اسی سلسلہ میں اپنے موقعہ پر بعد الموت کی زندگی کاثبوت بھی بیان کیاگیاہے۔توحید اور آسمانی ہدایت کی ضرورت کا بیان غرض توحید اورآسمانی ہدایت کی ضرورت کے مضمون کو ایک دوسرے کی تائید میں اس طرح بدل بدل کر لایا گیا ہے کہ مضمون میں ایک غیر معمولی شوکت پیداہوگئی ہے اورصاف معلوم ہوتاہے کہ جس طرح مادی دنیا کے تما م اجرام ایک دوسرے پرسہارالئے کھڑے ہیں اسی طرح روحانی دنیا کی عمارت بھی ایک دوسرے کوسہارادے رہی ہے۔اوراس کاایک حصہ دوسرے کی اس طرح تائید کررہا ہے کہ جدھر سے بھی رخ کرو ایک ہی حقیقت اورایک ہی نظام کی طرف رہنمائی ہوتی ہے۔توحید عین فطرت ہے چنانچہ اس آیت میں پھر توحید کی طرف رخ کیا ہے اوربتایا ہے کہ جہاں دولت و حکومت پر انسانی قبضہ ا س طرف رہنمائی کرتا ہے کہ انسانی فطرت دوسرے انسانوں کوجواس کے محکوم ہیں اپنے ساتھ شریک کرنے پر تیار نہیں ہوتی اوراس وجہ سے ایک بیرونی تحریک کی ضرورت ہوتی ہے جواس بگڑے ہوئے نظام کو بدل کر مساوات انسانی اورحقوق انسانی کو قائم کرے۔اسی طرح اس سے خدا تعالیٰ کی توحید کی طرف بھی توجہ ہوتی ہے اوروہ اس طرح کہ جب اللہ تعالیٰ تم کو کوئی نعمت دیتا ہے۔توجہاں تک وہ تمہارے قبضہ کو تسلیم کرتا ہے وہ تمہارے حقوق تمہاری اولاد کی طرف بطور وراثت منتقل ہونے کی اجازت دیتاہے اور تم اپنے اچھے مال جو خدا تعالیٰ نے تم کو دئے ہیں۔اپنی اولاد کی طرف منتقل کرتے ہو ئے دوسروں کو نہیں دےدیتے اورنہ دوسروں کو یہ حق دیتے ہو کہ وہ تمہاری جائداد جس کوچاہیں دے دیں۔پھر کیا وجہ ہے کہ تم باطل یعنی شرک میں مبتلاہوتے ہو اوراللہ تعالیٰ کی نعمتوں