تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 135
ملکیت کے بارہ میں اسلامی نقطہ نگاہ اس آیت میں نہایت لطیف پیرایہ میں اس قانون کو جو ملکیت کے بار ہ میں اسلام نے پیش کیا ہے بیان کیاگیا ہے۔ایک طرف رِزْقِھِمْ کہہ کر مال و امتعہ پر ان لوگوں کا قبضہ تسلیم کیاگیا ہے جومالدار اوربڑے ہوتے ہیں۔دوسری طرف بِرَادِّی کہہ کر جس کے معنے واپس لوٹانے والے کے ہیں یہ امر تسلیم کیاہے کہ مال کے مالک عوام الناس ہیں۔کیونکہ لوٹائی وہی چیز جاتی ہے جودوسرے کی ہو۔اپنی چیز دی جاتی ہے لوٹائی نہیں جاتی۔پس ان دوالفاظ سے بظاہرمتضاد مضمون نکلتا ہے۔بِرَآدِّيْ رِزْقِهِمْ سے ہر چیزپر دو ملکیتوں کی طرف اشارہ رِزْقِھِمْ بتاتا ہے کہ مالدار لو گ اپنے مالوں کے مالک ہیں اور بِرَادِّی بتاتا ہے کہ عوام الناس ان مالوں کے مالک ہیں۔مگر درحقیقت اس میں تضاد نہیں۔اسلام نے ملکیت پر بعض حقوق بنی نوع انسان کو دئیے ہیں اور بعض کمانے والے کو اسلام کی تعلیم کاامتیاز ی نشان ہی یہ ہے کہ اس نے ہر چیز پر دوملکیتوں کو تسلیم کیاہے۔اس شخص کی ملکیت کو بھی جس نے اسے کمایا اورمن حیث الجماعت بنی نوع انسان کی ملکیت کو بھی۔بعض حقو ق کمانے والے کودئے گئے ہیں۔اوربعض حقوق بنی نوع انسان کو۔کیونکہ اصل ملکیت دنیا کی اشیاء پر ہرانسان کو بحیثیت انسان حاصل ہے۔پھر یہ کوشش بھی کی گئی ہے کہ قبضہ ایسا نہ ہو کہ دوسرے انسانوں کی ترقی میں روک ہو۔بلکہ و ہ دروازے کھلے رہیں جن میں سے ہوکر دوسرے لوگ بھی آگے آسکیں۔اس پر زکوٰۃ،ورثہ اورسونے چاندی کے جمع کر نے کی ممانعت ،سود کی ممانعت وغیر ہ مسائل سے بہت واضح روشنی پڑتی ہے۔مگر یہ موقعہ ان امو رکے بیان کا نہیں۔خلاصہ یہ کہ اسلام نہ توبے قید شخصی ملکیت کا قائل ہے اورنہ غیر محدود جماعتی تصرف کا۔وہ دونوں کو قیود سے پابند کرکے انفرادی اورجماعتی کشمکشوں کو اپنے اپنے دائرہ میں اپنی قابلیتوں کے اظہار کاموقعہ دیتا ہے۔مَامَلَکَتْ اَیْمَانُھُمْ اس سے مراد عام طورپر غلام ہیں اورقرآن مجید کے محاورہ میں بھی اکثر جگہ یہی معنے مستعمل ہوئے ہیں۔مگر اپنی بناوٹ کے لحا ظ سے یہ لفظ عام ہے۔جوشخص کسی نہ کسی لحاظ سے کسی کے قبضہ و تصر ف میں ہو وہ بھی اس لفظ کے اندر شامل ہے۔اس لحاظ سے تما م ماتحت نوکر ،مزارعین اورمزدوروغیرہ اس کے اند رشامل ہوں گے۔اس آیت میں شریعت کے خود بنا نے والوں کا جواب اس آیت میں اس سوال کا بھی جواب دیا گیاہے کہ شریعت ہم خود ہی بنالیں گے خدائی الہام کی کیا ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ اس کا جواب دیتاہے کہ شریعت بنانا خدا کا ہی حق ہونا چاہیے کیونکہ صحیح قانون وہی بناسکتا ہےجس کی اپنی غرض حقوق کی تقسیم میں کوئی نہ ہو۔اگرغرض والا