تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 134 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 134

اس اعلان کے ذریعہ سے کیا جاتا ہے۔اور کبھی وہ اس قسم کا اعلان کرتا ہے کہ اہل دنیا کی یہ خوش قسمتی ہے کہ مابدولت فلا ں بات میں اس کے شریک ہیں اورجس قدر وہ بے وقو ف ہوتا ہے اُسی قدر زیادہ تعلّی کر تاہے۔یہی حال مذہبی دنیا کاہوتا ہے۔علماء کے بیٹے نیم علم رکھتے ہوئے اورغوروفکر کی طاقتوں سے محروم ہو تے ہوئے صرف اس لئے مشائخ میں سے کہلاتے ہیں کہ وہ علماء کی اولاد ہیں۔اوردنیا سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بغیر دلیل کے ان کی جاہلا نہ باتوں کو تسلیم کیا جائے اورجو ان کے سامنے خدا تعالیٰ کاکلام رکھے۔اُسے ان فرسودہ قصوں اوربے معنی روایتوں کا جن کی سند ان کے پاس کوئی نہیں ہوتی انکا ر کرنے والا قرار دے کر کافرو مرتد قرار دے دیا جاتاہے۔نبی لوگوں کو آزادی عمل اور آزادی رائے دینے کے لئے آتا ہے ایسے وقت میں صرف ایک نبی ہی کام آسکتاہے اوران امور کاعلا ج کرسکتا ہے۔جب وہ ظاہر ہوتاہےتووہ جاہل جو اپنے آپ کو عالم کہتے تھے اس کی شناخت سے محروم رہ جاتے ہیں اور وہ عالم جو جاہل کے نام سے مشہور تھے اپنی بصیرت اورپاکیزہ فطرت کی مدد سے اس پر ایما ن لے آتے ہیں۔تب فرشتوں اور شیطان کی لڑائی شروع ہوجاتی ہے۔اوروہ جوناقابل سمجھے جاتے تھے قابلیت کے نام پر بنی نو ع انسان کو غلام بناکر رکھنے والوں کی ایک ایک تدبیر کو اس طرح کچل ڈالتے ہیں کہ جیسے چیل مردار کی بوٹیوں کو پتھروں پر مارتی ہے اوران خود ساختہ قابلوں کی قابلیت کی قلعی کھل جاتی ہے اورمدتوں سے دبے ہوئے عوام کو پھر اُبھرنے کا موقعہ ملتاہے۔اورانسانیت پھر آزادی کاسا نس لیتی ہے۔یہی مضمون ہے جسے اس آیت میں بیان کیاگیااوربتایاگیا ہے کہ جس کے قبضہ میں خدا تعالیٰ کی نعمت آجائے وہ انہیں جنہیں اس نے غلام بناکر رکھا ہے۔کبھی اپنے حصہ میں برابر کا شریک نہیں بناتا۔بھلا کبھی بھی بنی نوع انسان کو ایسے لوگوں نے آزادی رائے اورآزادی عمل دی ہے۔اگر نہیں توپھر نبیوں کے سوا جووقتاً فوقتاً آکر دنیاکو آزادی بخشیں اورکون سی صورت انسا ن کی ترقی کی رہ جاتی ہے ؟ شریعت کے نزول کی ضرورت اس دلیل میں نبوت کی عملی ضرورت کوثابت کیا گیا ہے اوریہ ایسی زبردست دلیل ہے کہ ہر صاحبِ بصیر ت اسے دیکھ کر یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ نبوت کے بغیر کبھی بھی دنیا اپنے حقوق کو برقرار نہیں رکھ سکتی۔یہ نعمت جب تک دنیا کو بار بار نہ ملے انسان کاقدم ترقی کی طرف نہیں بڑ ھ سکتا۔اَفَبِنِعْمَۃِ اللّٰہِ سے عوام الناس کو ملامت اَفَبِنِعْمَةِ اللّٰهِ يَجْحَدُوْنَ سے عوام الناس کو ملامت کی ہے کہ تمہاری ہی آزادی کے لئے یہ رسول آیا ہے۔اور تم اس نعمت کی ناقدری کرتے ہوئے انہی ظالموں کے ساتھ مل کر کام کررہے ہو جو تمہار ے حقوق پر ناجائز طورپر قابض ہورہے ہیں۔