تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 133 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 133

جھٹلایا۔(اقرب)پس یَجْحَدُوْنَ کے معنے ہوں گےکہ اللہ کی نعمتوں کاجان بوجھ کرانکار کرتے ہیں۔تفسیر۔اس آیت میں الہام الٰہی کے نزول کی دلیل اس آیت میں الہام کی ایک اورزبردست دلیل دی ہے اوروہ یہ کہ الہام الٰہی صرف عقائد کی اصلاح ہی نہیں کرتا۔بلکہ اس کے علاوہ اس کے ذریعہ سے دنیاوی حکومتوں کے توازن کی بھی اصلاح کی جاتی ہے۔چنانچہ فرماتا ہے کہ ہرزمانہ میں اللہ تعالیٰ کا بعض افراد یابعض قوموں پر فضل نازل ہوجا تا ہے اوروہ دوسروں سے آگے نکل جاتے ہیں۔یہاں تک توعام قانون ہے اوراگرایسے لوگ انصاف سے کام لیں اور کسی کی حق تلفی نہ کریں توقابل اعتراض بات نہیں۔لیکن ہمیشہ ہوتایہ ہے کہ جن لو گوں کے اختیار میں دنیا آتی ہے وہ کسی صورت میں ان لو گوں کے ساتھ جو ان کے غلام یا بمنزلہ غلام ہوں ان اختیارات کو تقسیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے جو انہیں حاصل ہوچکے ہوں۔ان کے قبضہ سے دنیا کو نکال کر عزت اوررتبہ کو لیاقت اورقابلیت اوربنی نوع انسان کی مساوات کی بنیاد پر رکھنے کاصرف اورصرف ایک علاج ہوتاہے اوروہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نبی ارسال فرماکر پھر بنی نوع انسان کو ان کے حقوق واپس دلائے۔جولوگ ملکوں اورحکومتوں کی باگ پر قابض ہوجاتے ہیں ان کا بڑابہانہ یہی ہوتا ہے کہ دنیا کا انتظا م لائق آدمیوں کے ہاتھ میں رہنا چاہیے۔اوروہ بعض خاندانوں اورگھرانوںکو لیاقت کے لئے مخصوص کرلیتے ہیں اوربادشاہتیں قائم ہوجاتی ہیں۔بعض خاندان حکومت کرنے کے اہل قرار دے دئے جاتے ہیں اورعوام الناس سے نہ کوئی رائے لیتا ہے نہ ان کا انتظام میں کوئی دخل ہوتاہے۔اس کے علاوہ کچھ حقوق انسانوں کے مذہبی لیڈر،پیر اورکاہن چھین لیتے ہیں۔دین کو پنڈتوں،مولویو ںاورپادریوں کی جائداد قرار دے لیا جاتاہے۔نہ عوام کو دین سے واقف رکھا جاتا ہے نہ انہیں اس کے متعلق دلچسپی لینے کاموقعہ دیاجاتاہے۔بس یہ خیا ل کر لیا جاتاہے کہ ان کاکام صرف مذہبی پیشوائوں کے بتائے ہوئے مسائل کومانناہے۔مذہبی کتابوںپر خود غورکرنا اور ان سے فائدہ اٹھانا ان کا کا م نہیں۔غرض جب قوم نبوت کے زمانہ سے دور ہوجاتی ہے اس کے حقوق بعض خاندانوں کے قبضہ میں بطورتوارث چلے جاتے ہیں اورعام لو گ دین اوردنیا کے معاملہ میں بھی مشورہ دینے یا رائے دینے کے قابل نہیں سمجھے جاتے اور اس فرق اورامتیاز کو ایک فرضی قابلیت کا نتیجہ قرار دیاجاتاہے۔ایک بادشاہ کا احمق بیٹا دنیا کاسب سے بڑاسمجھد ار سمجھا جاتاہے۔وہ نادان خود ایسا مغرور ہوتاہے کہ جب دنیا کے سامنے اپنا کوئی احمقانہ اعلان کرتاہے تواس میں اس قسم کے نامعقول الفاظ استعمال کرتا ہے کہ مابدولت نے لوگوں کے فائدہ کے لئے فلاں اعلیٰ تجویز سوچی ہے جس کااظہار