تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 124
خیالات کے مطابق یہ سمجھا ہے کہ شاید فرث اورخون کے بننے کے درمیان کوئی تغیر ایساہوتاہے جس سے دودھ بنتاہے۔چنانچہ صاحب کشاف لکھتے ہیں کہ جب غذاجانورکے معدہ میں جاتی ہے تواس کا نچلا حصہ گوبر بن جاتاہے اور درمیانی حصہ دودھ بن جاتاہے اوراوپر کا حصہ خون بن جاتاہے (کشاف زیر آیت ھذا)۔حالانکہ آیت صاف بتارہی ہے کہ فرث اورخون میں سے ہوتے ہو ئے دودھ کاماد ہ آتاہے یعنی پہلے فرث کی حالت ہوتی ہے پھر خون کی پھر دودھ کی۔اوران پہلی دوچیزوں میں سے کسی کو بھی انسان خوشی سے کھانے کوتیار نہیں ہوتا۔نہ گوبر کھانے پر راضی ہو سکتاہے اورنہ خو ن پینے پر خوشی سے تیار ہو سکتا ہے۔لیکن جب وہی خون دودھ بن جاتا ہے تواسے خو ب مزے لے کر پیتا ہے اوراس میں فرث کی گندگی اوراورخون کے زہروں میں سے کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔اس آیت کا یہ مطلب نہیں کہ کوئی تھوڑی سی مقدار میں بھی دود ھ نہیں بناسکتا۔ممکن ہے کسی وقت لو گ کچھ دودھ بھی بنالیں۔لیکن ا س طرح ساری دنیا کو غذا نہیں پہنچا سکتے۔یو ں تولوگ گیسوں سے پانی بھی بنالیتے ہیں۔لیکن وہ چند قطر ے پانی کے بادلوں کاکام نہیں دے سکتے۔اسی طرح اگر کسی وقت کوئی شخص گھاس پات سے دودھ بھی بنالے توتعجب نہیں۔مگر دنیاکو غذادینے کاکام پھر بھی جانوروں کے سپرد ہی رہے گاجس طرح پانی مہیا کرنے کاکام بادلوں کے سپر د ہے۔اس آیت میں اس طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ انسان غذاکو گندہ توکرسکتاہے لیکن اس سے دودھ نہیں بنا سکتا۔اسی طرح انسان انبیاء کی تعلیم کو لے کر خراب تو کردیتے ہیں لیکن انسان دماغوں میں پائی جانےوالی غیر مصفّٰے فطرتی صداقتوں کو مصفّٰے اوراعلیٰ روحانی تعلیم نہیں بناسکتے۔وَ مِنْ ثَمَرٰتِ النَّخِيْلِ وَ الْاَعْنَابِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْهُ اورکھجوروں کے پھلو ں اورانگوروں سے (بھی کہ )جن سے تم شراب (بھی )بناتے ہو اوراچھا رزق( بھی) جولوگ سَكَرًا وَّ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ۰۰۶۸ عقل سے کام لیتے ہیں ان کے لئے اس میں یقیناً ایک (بڑا)نشان (پایاجاتا)ہے۔حلّ لُغَات۔اَلنَّخِیْلُ النَّخِیْلُ نَخْلٌ کی جمع ہے اور یہ مؤنث استعمال ہوتاہے۔لیکن نَخْلٌ کالفظ مؤنث مذکردونوں طرح استعمال ہوتاہے اس کے معنے ہیںکھجورکے درخت۔(اقرب)