تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 125 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 125

اَلْاَعْنَابُ۔اَ لْاَعْنَابُ عِنَبٌ کی جمع ہے اورعِنَبٌ کے معنے ہیں ثَمْرُالْکَرَمِ وَھُوَ طَرَیٌّ۔فَاِذَایَبِسَ فَھُوَ الزَّبِیْبُ یعنی عنب تازہ انگوروں کو کہتے ہیں۔جب وہ خشک ہوجائیں تووہ زبیب (منقّہ )کہلاتے ہیں۔(اقرب) سَکَرًا:اَلْخَمْرُ۔شراب۔نَبِیْذٌ یُتّخَذُ مِنَ التَّمْرِ وَالْکَشُوْثِ۔کھجوروں کارس۔کُلُّ مَا یُسْکَرُ۔ہر نشہ آور چیز۔الْخَلُّ۔سرکہ۔اَلطَّعَامُ۔کھانا۔(اقرب) تفسیر۔مفسرین کے نزدیک سکر کے معنی شراب کے اس آیت میں بعض مفسرین نے سکر کے معنے شراب کے کئے ہیں۔پھر ان کو یہ مشکل پڑی ہے کہ اس آیت میں سکر کوتواللہ تعالیٰ انعام کے طورپر ذکر فرمارہا ہے حالانکہ شراب ناجائزہے۔اس پر انہوں نے یہ تاویل کی ہے کہ یہ آیت اس وقت کی نازل شدہ ہے جبکہ شراب جائز تھی۔اوریہ جواب دے کر انہوں نے اس آیت کو منسوخ قرار دے دیا ہے(تفسیر القرطبی زیر آیت ھذا)۔بعض لوگوں نے اس مشکل کومدنظر رکھتے ہوئے سکر سے کھانا مراد لیا ہے۔ان معنوں پر دوسرے علماء نے یہ اعتراض کیا ہے کہ اگریہ معنے ہوں توآیت میں تکرار واقع ہوجائے گا۔کیونکہ آگے وَرِزْقًاحَسَنًا بھی بیان فرمایا ہے۔اس کاانہوں نے یہ جواب دیاہے کہ سکر کے لفظ میں طاقت مدنظررکھی ہے اوررزق میں غذائیت مد نظررکھی ہے۔(تفسیر البغوی زیر آیت ھذا)۔یہ سب مشکل ان کو اس لئے پڑی ہے کہ انہوں نے جواز اورعدم جواز کامسئلہ اس جگہ سے نکالنا چاہاہے۔تَتَّخِذُوْنَ مِنْہُ سَکَرًا کا مطلب حالانکہ خدا تعالیٰ اس جگہ بات ہی یہ بتاناچاہتاہے کہ بسا اوقات ہماری پیداکردہ طیّب چیزیں جب تم تصرّف کرتے ہو تواسے گندہ کردیتے ہو۔وہی چیز جوتازہ ہونے کی حالت میں پاک ہوتی ہے جب تم اس میں تغیر کرتے ہو توکیسی گندی ہوجاتی ہے۔اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ۔اِن الفاظ سے اس طرف اشار ہ کیا کہ عقل مند سمجھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ جس چیز کو جس غرض سے بناتا ہے اس میں تغیر کرنا اس کی اصلاح کا موجب نہیں ہوتابلکہ خراب کرنے کاموجب ہوتاہے۔پس نہ توانسان خود روحانی تعلیم بناسکتاہے نہ اسے یہ اختیارہے کہ خدا تعالیٰ کی بھیجی ہوئی تعلیم میں کسی قسم کادخل دے اوراسے اس مقصد سے پھرادے جس کے لئے وہ نازل ہوئی ہے ورنہ ضرورخرابی پیداہوجائے گی۔