تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 123
ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ ان کو روحانی دودھ کی شکل میں بد ل دے۔اوریہ کام انسان خود نہیں کرسکتا۔جوگھاس کو دودھ میں تبدیل نہیں کرسکتا وہ فطرت کے اَن گھڑے جذبات کو اعلیٰ تعلیم میں کب تبدیل کرسکتا ہے۔اس آیت میں ایک لفظی اشکال اس آیت میں ایک لفظی اشکال بھی ہے اوروہ یہ کہ بطونہٖ میں مفرد کی ضمیر ہے اورماقبل اس کے اَنعام جمع کالفظ ہے۔مفسرین نے اس کے دوجواب دیئے ہیں۔ایک یہ کہ مفرد کی ضمیر معنیً پھرائی گئی ہے اورمراد یہ ہے کہ جس چیز کاہم نے ذکر کیا ہے۔یعنی انعام۔اس کے پیٹ میں مذکورہ طریق سے دودھ بنتا ہے گویاضمیر انعام کی طرف نہیں بلکہ مَاذُکِرَ یامَاذَکَرْنَا ہُ کی طرف ہے اورما کی طرف خواہ وہ جمع کے لئے ہو مفرد کی ضمیر پھیر نی جائز ہے۔(تفسیر فتح البیان زیر آیت ھذا) مختلف مفسرین کے نزدیک لفظی اشکال کی تاویل دوسری تاویل مفسرین یہ کرتے ہیں کہ کبھی جمع کالفظ بول کر اس کی طرف مفرد ضمیر اس اشارہ کے لئے لاتے ہیں کہ اس کے ہرفرد یااس کی ہرقسم کے ساتھ یہ معاملہ گذرتا ہے۔یہ دونوں تاویلات درست ہیں اورعربی قواعد کے مطابق ہیں۔سائینس کی موجودہ تحقیق دودھ بننے کے متعلق قرآن مجید کے بیان کے مطابق ہے یہ آیت اس امر پر بھی شاہد ہے کہ قرآن کریم کا نازل کرنے والا دنیاکاخالق بھی ہے کیونکہ اس میں دودھ کے پیدا ہونے کاوہ طریق بتایاگیا ہے جو اس وقت دنیا کو معلوم نہ تھا اوربعدمیں دریافت ہواہے۔اوروہ یہ کہ غذامعدہ میں سے انتڑیوں میں آتی ہے اوراس سے فرث تیارہوتاہے اس فرث سے ایک ماد ہ خون بن جاتاہے اوراس خون سے دودھ بنتاہے۔یہی وہ حقیقت ہے جو نزول قرآن کے بعد کی تحقیق سے ثابت ہوئی ہے۔چنانچہ بعد کے مفسرین نے ابتدائی مفسرین کی غلطی کو پیش کر کے ظاہر کیا ہے کہ درحقیقت فرث سے خون اورخون سے لبن بنتاہے۔مگر جو تشریح انہوں نے بیان کی ہے وہ بھی پوری طرح سائنس کے مطابق نہیں۔لیکن قرآن کریم کے الفاظ سائنس کی موجود ہ تحقیق کے بالکل مطابق ہیں۔اوروہ یہ ہے کہ غذامعدہ سے انتڑیوں میں جاتی ہے وہاں سے اس کامنہضم لطیف حصہ بعض عروق کے ذریعہ سے ایک حصہ سیدھا دل تک جاتا ہے اور وریدوں میں گرکرفوراً خو ن بن جاتا ہے اور ایک اور لطیف حصہ معدہ سے براہ راست جگر میں جا کر وہاں سے وریدوں کے ذریعے دل میں گر کر خون بن جاتا ہے پھر یہ خون جب تھنوں کے قریب جاتا ہے تووہاںاللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیداکئے ہیں کہ وہ خون وہاں جاکردودھ بن جاتاہے۔پرانے زمانہ کے لوگوں کی دودھ کے بننے کے طریقہ سے ناواقفیت اس حقیقت سے پرانے زمانہ کے لوگ ایسے ناآشنا تھے کہ مفسرین نے اس آیت کے معنے کرنے میںسخت مشکلات محسوس کی ہیں اوررائج الوقت