تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 122 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 122

اسباب اٹھانے کاکام دیتے ہیں۔پس عِبْرَۃٌ کالفظ جو عُبُوْرٌسے نکلا ہے جس کے معنے سفر کے بھی ہوتے ہیں۔اسے استعمال کر کے اس طرف اشارہ فرمایا کہ جانوروں سے سفروں میں کام لیتے ہو وہ تم کو اور تمہارے اسباب کو ایک جگہ سے دوسری جگہ تک لے جاتے ہیں مگر ان سے عبرت حاصل نہیں کرتے۔یعنی اپنے ذہنوں کے سفر میں ان سے مدد نہیں لیتے اوران کی حالت پر غور کرکے اس زیر بحث مسئلہ میں جہالت کے ملک سے علم کے ملک کی طرف سفر نہیں کرتے۔عِبْرَۃٌ کے معنی عِبْرَۃٌ کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ ایک چیز کو دیکھ کر دوسری اُسی کے مشابہ چیز کی طرف ذہن کاانتقال کیا جائے اورپہلی پر قیاس کرکے دوسری کو سمجھاجائے۔پس جانوروںکے ذکر میں عبر ۃ کالفظ استعمال فرما کر ایک عجیب پر لطف مضمون پیداکر دیاگیاہے۔وہ عبرۃ کیا ہے جس کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا گیاہے وہ خود ہی اگلے الفاظ میں بیان فرما دی ہے اوروہ یہ ہے کہ چارپائے گھاس پتے کھاتے ہیںجس سے گوبربنتاہے پھر گوبر میں سے ایک حصہ خو ن بنتاہے اوراس خو ن کاایک حصہ دودھ بن جاتاہے جسے انسان مزے لے کر پیتا ہے اوروہ ایسا خالص ہوتاہے کہ کوئی نفاست پسند انسان بھی اس کے پینے میں کراہت محسوس نہیں کرتا۔حالانکہ دودھ پہلے خو ن تھا اورخون اس فضلہ سے بنتاہے جو غذاسے جانور کے معدہ میں تیارہوتاہے اوروہاں سے انتڑیوں میں جاکر باریک عروق کے ذریعہ سے دل کی طرف لے جایاجاتاہے جہاں جاتے ہی وہ خون بن جاتا ہے اورخون تھنوں میں آکر دودھ کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔گھاس پتوں سے دودھ بنانے کے ذکر سے روحانی تعلیم کے صاف کرنے کی طرف اشارہ اس آیت میں اس مضمون کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ وہی گھاس اورپتے جن کو انسان استعمال نہیں کرسکتا جانور کے پیٹ میں جاکر گوبر بنتے ہیں اوراس سے خون بنتاہے اوراس سے دودھ اوروہ دود ھ خالص ہوتا ہے کوئی گندگی اس میں نہیں ہوتی اورپینے میں مزہ دار ہوتاہے۔اس گھاس کو انسان اس جانورسے باہر دودھ کی شکل میں تبدیل نہیں کرسکتالیکن اللہ تعالیٰ اس کو لے کر جانور کے ذریعہ سے دودھ بنادیتاہے۔اس سے انسانوں کو نصیحت حاصل کرنی چاہیے کہ وہی فطرتی تعلیم جس پر چل کر انسان یقین کے مرتبہ تک نہیں پہنچ سکتا اورہزاروں گند اورنقص اس میں پائے جاتے ہیں۔جب اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی روحانی مشین میں سے گذرتی ہے تومصفّٰی دودھ کی طرح ہوجاتی ہے جس سے کسی قسم کانقصان روحانی صحت کو نہیں پہنچ سکتا بلکہ ہر طرح فائدہ پہنچتاہے۔پس جانوروں کے اندرجو دودھ بنتاہے اس سے یہ لوگ کیوں عبرت حاصل نہیں کرتے اورنہیں سمجھتے کہ انسان کی سچی غذا فطرت کے میلان تب ہی بن سکتے