تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 107 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 107

لِيَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَيْنٰهُمْ١ؕ فَتَمَتَّعُوْا١۫ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جوکچھ ہم نے انہیں دیاہے وہ اس کاانکار کردیتے ہیں اچھا؎ تم عارضی (اوروقتی سامانوں سے ) فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ۰۰۵۶ نفع اٹھالواور(اس کا انجام بھی )تم جلد معلوم کرلو گے۔حل لغات۔؎ فاء کاترجمہ اس جگہ ’اچھا ‘زیادہ درست معلوم ہوتاہے۔تفسیر۔لِیَکْفُرُوْا میں لام۔لام عاقبت ہے لِیَکْفُرُوْا میں لام۔لام عاقبت ہے اورمراد یہ ہے کہ خدا تعالیٰ جب تم پر سے مصیبت ٹلادیتاہے تواس کانتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بجائے اس کاشکریہ اداکرنے کے تم اس کے فضل کاانکار کردیتے ہو اورکہتے ہو کہ یہ فضل فلاں دیوتا کی وجہ سے نازل ہواہے۔جب تمہاری یہ حالت ہے تو تم دائمی فضل کے مستحق نہیں ہوسکتے۔ہم تمہاری ہدایت کی غرض سے اوراپنے رحم سے کام لیتے ہوئے چند بارتوتمہاری دعائوں کو سن کر مصائب ٹال دیں گے مگر ہمیشہ توایسانہ ہوگا آخر ایک دن ہم تمہاری دعائوں کو ردّ کردیں گے اورعذاب میں مبتلاکردیں گے۔وَ يَجْعَلُوْنَ لِمَا لَا يَعْلَمُوْنَ نَصِيْبًا مِّمَّا رَزَقْنٰهُمْ١ؕ تَاللّٰهِ اورجو کچھ ہم نے انہیں دیاہے اس میں سے ایک حصہ و ہ (اپنے )ان (جھوٹے معبودوں)کے لئے مخصوص کردیتے لَتُسْـَٔلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَفْتَرُوْنَ۰۰۵۷ ہیں جن (کی حقیقت )کے متعلق وہ (کچھ )علم نہیں رکھتے۔اللہ(تعالیٰ)کی قسم جوکچھ تم (جھوٹ سے کام لے کر )اپنے پاس سے گھڑتے رہے ہو (ایک دن ) اس کی نسبت تم سے یقیناً باز پرس ہوگی۔حلّ لُغَات۔النَّصِیْبُ۔اَلنَّصِیْبُ الحَظُّ:حصہ (اقرب) تفسیر۔اس آیت میں شرک کی ایک اور شناعت شرک کی ایک اورشناعت اس آیت میں بیان کی گئی ہے اوروہ یہ کہ الٰہی نعمتوںکو ایسے وجودوں کی طرف منسوب کیاجاتا ہے جن کے وجود کاخود کوئی ثبوت