تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 108
نہیں۔یہ دلیل شرک کے ردّ میں ایک زبردست ثبوت ہے۔مشرکوں نے شرک کی تائید میں بعض ایسے فلسفیا نہ مسائل بنارکھے ہیں کہ ان میں پڑ کر کمزوردماغ کے آدمی کچھ حیران سے ہوجاتے ہیں اورشرک اورتوحید میں فرق کرنا ان کے لئے مشکل ہوجاتا ہے۔اس آیت میں شرک کے متعلق ایک ایسی عام فہم دلیل دی گئی ہے جو ان سب فلسفیانہ وسوسوں کورد کردیتی ہے۔اوروہ یہ کہ اس اصولی بحث کوجانے دو کہ ایک سے زیاد ہ معبود ہوسکتے ہیں یا نہیں۔کسی چیز کاہوسکنا اَورامر ہے اورہونا اَورامر ہے۔فرض کرلو کہ ایک سے زیادہ معبود ممکن ہوں مگر اس سے یہ توثابت نہیں ہوجاتا کہ کوئی خاص بت یاخاص انسان جسے خدا تعالیٰ کا شریک بنایاجاتاہے وہ بھی سچا معبود ہے۔اس امر کاثبوت کہ کوئی شخص یابت معبود سچا ہے توالگ دیناہوگا۔فرماتا ہے اپنے ایک ایک معبود کولے لو کیاان میںسے کسی کی خدائی کاثبوت بھی تمہارے پاس ہے۔اگر کسی معبود کی خدائی کاثبوت بھی تمہارے پاس نہیں توصر ف فلسفیانہ دلائل شرک کی تائید میں دے کر تم توحید کے حملہ سے کس طر ح بچ سکتے ہو۔یہ وہ دلیل ہے جس کے سامنے کوئی مشرک نہیں ٹھہر سکتا۔ہم فرض کرلیتے ہیں کہ ایک سے زیادہ خداممکن ہیں۔مگریہ کیونکر ثابت ہواکہ کالی بھی خداہے یارام یاکرشن بھی خداہیں یا مسیح اورایسے ہی ان لوگوں کے مزعومہ خدا،خداہیں۔ان کے خداہونے کاتو الگ ثبوت دینا پڑے گا جوکبھی کوئی مشرک نہیں دے سکتا۔وہ ہمیشہ عام فلسفیانہ دلائل شرک کی تائید میں پیش کرے گا۔اپنے مزعومہ معبود کی تائید میں کبھی کوئی معقول دلیل نہ دے گااورنہ دے سکے گا۔کیونکہ شرک کی تائید میں فلسفیانہ دلائل دینا اوربات ہے اورایک کمزور وجود کو خداثابت کر نا اوربات ہے۔اللہ تعالیٰ کی حکمت کاملہ نے ان سب وجودوں کے متعلق جن کو خدا مانا جاتا ہے ایسے زبردست شواہد ان کے کمزوراوربے بس ہونے کے پیداکررکھے ہیںکہ جب اس طرف رخ کیاجائے مشرک کی سب شیخی کرکری ہوجاتی ہے۔لِمَالَایَعْلَمُوْنَ کے دو معنی لِمَالَایَعْلَمُوْنَ سے اس طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ وہ ان معبودوں کویہ حصہ دیتے ہیں جومعبود اس بات تک کو نہیں جانتے کہ انہیں خدا تعالیٰ کی صفات د ی جارہی ہیں۔مثلاً بُت۔نہریں۔دریا۔پہاڑوغیرہ جن کو لوگ خدابناتے ہیں خود بے جان اشیاء ہیں۔ایسا ہی حضرت عیسیٰؑ اور حضرت امام حسینؓ ہیں۔لوگ ان کی طرف الوہیت کو منسوب کرتے ہیں اورکہتے ہیںکہ انہوں نے فلاں فلاں چیز دی مگر اُن بے چاروں کو اس بات کاپتہ بھی نہیں(انجیل یوحنا باب ۱ آیت ۱۔تحفہ اثنا عشریہ از علامہ الہند حضرت مولانا شاہ عبد العزیز اردو ترجمہ مولانا عبد المجید باب دوم در مکائد شیعہ کید نمبر ۶۶)۔کیونکہ انہوں نے اپنی زندگی میں کوئی دعویٰ خدائی کانہیں کیا۔اس صورت میں لَایَعْلَمُوْنَ کی ضمیر معبودوں کی طرف مانی جائے گی۔