تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 106 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 106

اس وقت جرمنی اورانگلستان کے ساتھ ہورہی ہے مسیح کو نہیں پکار رہے بلکہ ایک خدا کوپکاررہے ہیں۔اگرانہیں مسیح کی خدائی پر پورایقین ہوتا توکبھی ایسانہ کرتے۔بدر کی جنگ کے موقع پر جب کہ گھمسان کا رَن پڑاتھا توکفارنے لات اورعزیٰ کو نہیں پکارا۔ابوجہل نے بھی ان باطل معبودوں سے دعانہیں کی۔بلکہ کہا تویہی کہا اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ (الانفال :۳۳) کہ اے اللہ اگر یہ مذہب اسلام سچا ہے اورہم اس کی مخالفت ضد کی وجہ سے کررہے ہیں توہم پرآسمان سے پتھر برسایااس کے سواکوئی اوردردناک عذاب ہمیں دے۔اور خدائے واحد نے اس کی دعاسن بھی لی اوربدر میں ان پر پتھروں کی بارش بھی نازل کی اوراَورکئی قسم کے دردناک عذاب بھی ان پر نازل کئے۔(بخاری کتاب التفسیر سورۃ الانفال باب قولہ و اذ قالوا اللّھم۔۔)اگران لوگوں کے دلوں میں لات اورعزیٰ کاہی گہرانقش واثرہوتاتوانہی کو اس مصیبت میں پکارتے۔مگر ایسانہیں ہوابلکہ انہوں نے خدا تعالیٰ ہی کوبلایا اوریہی فطرت کی شہادت ہے۔ثُمَّ اِذَا كَشَفَ الضُّرَّ عَنْكُمْ اِذَا فَرِيْقٌ مِّنْكُمْ بِرَبِّهِمْ پھر جب وہ تم سے اس تکلیف کو دور کردیتاہے توتم میں سے بعض لوگ جھٹ(اوروںکو)اپنے رب کاشریک يُشْرِكُوْنَۙ۰۰۵۵ ٹھہرانے لگتے ہیں۔تفسیر۔آیت میںبِرَبِّهِمْ کے الفاظ استعمال کرنے کی حکمت بِرَبِّهِمْ۔کالفظ استعمال فرما کر انہیں شرم اورغیرت دلائی ہے کہ تم اپنے ہی رب کے شریک ٹھہراتے ہو۔حالانکہ انسان کو اپنی چیز کی ایک غیرت ہوتی ہے وہ توتمہارااپنارب ہے تمہیں اس کے ساتھ کوئی ضدتو نہیں کہ ضروراس کے ساتھ شریک ٹھہرائو۔پھرکیا وجہ ہے کہ مصیبت کے وقت توا س کو یاد کرتے ہو اورجب مصیبت ٹل جاتی ہے توپھر تم کو اپنے جھوٹے معبود یاد آجاتے ہیں۔