تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 7 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 7

بدلامل جائے گا۔پھر صاف لفظو ں میں مکہ والوں کی تباہی کی خبردی اوربتایاکہ مکہ والوں کی حکومت جاتی رہے گی۔پھررحمت کے مضمون کو الگ کرکے بیان فرمایا کہ قرآن کریم کس طرح بنی نوع انسان کے لئے ظاہر ی رحمت بھی ہے کہ خلاف عقل رسوم سے انہیں بچاتا ہے۔پھر حضرت ابراہیم جومکہ والوں کے جد امجد تھے۔ان کی یاد دلائی کہ دیکھو وہ خدا تعالیٰ کافرمانبردار تھا تم بھی اسی کے نقش قدم پر چلو اوراس کی پیروی کروجو ابراہیمی سنت پر ہے۔پھر یہودو مسیحی لوگوں کو مخاطب کیا اورفرمایا کہ تم نے بھی دین کو بدل دیا ہے۔تم بھی اپنی اصلاح کر واورجو آرام کے سامان خدا تعالیٰ نے دیئے ہیں ان سے گمراہی میں ترقی نہ کرو۔آخر میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو توجہ دلائی کہ اب تیر ی تبلیغ کادائرہ وسیع ہوکر یہود ونصاریٰ کو بھی گھیرنے والا ہے اس کے بارہ میں ہم کچھ ہدایات ابھی سے دےدیتے ہیں۔پھر بتایاکہ اب تک تومکہ والے ظلم کرتے تھے۔آئندہ یہود و نصاریٰ بھی ظلم شروع کریں گے۔اس وقت بھی رحم کرنا اورصبر سے کام لینا۔ہاں جب خدا تعالیٰ سزادیناچاہے توان کی تباہی پر غم بھی نہ کرناا ورساتھ ہی یہ خبر بھی دے دی کہ یہود و نصاریٰ سے جومقابلہ ہوگا اس میں بھی اللہ تعالیٰ تم کو فتح دے گا۔بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ۰۰۱ (میں)اللہ (تعالیٰ) کانام لے کر (شروع کرتاہوں)جوبے حد کرم کرنے والا (اور)بار بار رحم کرنے والا ہے۔اَتٰۤى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ۠١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا (اے منکرو)اللہ (تعالیٰ)کاحکم آگیاہے اس لئے (اب )تم اس کے جلد آنے کامطالبہ نہ کرووہ پاک (ذات) يُشْرِكُوْنَ۰۰۲ ہے اورجن چیزوں کو وہ (لوگ)شریک قرار دیتے ہیں اس سے بہت بالاہے۔حلّ لغات۔فَلَاتَسْتَعْجِلُوْہُ:اِسْتَعْجَلَہٗ کے معنے ہیں طَلَبَ عَجَلَتَہُ وَلَمْ یَصْبِرْاِلٰی وَقْتِہِ۔کسی