تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 8 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 8

کام کے لئے خواہش کی کہ وہ وقت سے پہلے ہوجائے۔اِسْتَعْجَلَ فُلَانًا:سَبَقَہٗ وَتَقَدَّمَہٗ۔فلاں شخص سے آگے نکل گیا۔مَرَّفُلَانٌ یَسْتَعْجِلُ اَیْ یُکَلِّفُ نَفْسَہُ العجَلۃَ۔یعنی اپنی طبیعت پر زورڈال کر تیزی سے چلا۔(اقرب) مزید تشریح کے لئے دیکھو یونس آیت ۱۲۔اِسْتَعْجَلَہُ حَثَّہُ۔اسے کام پر آمادہ کیا۔اَمَرَہُ اَنْ یُعجِّلَ۔اسے جلدی کرنے کے لئے کہا۔اَتٰۤى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ۠ کے معنے ہوں گے کہ اللہ کے عذاب کے جلد آنے کامطالبہ نہ کرو۔سُبْحٰنَهٗ اوریُشْرِکُوْنَ کے لئے دیکھو یونس آیت نمبر۱۹۔سُـبْحَانَ اللہِ اَیْ أُبَرِّیُٔ اللہَ مِنَ السُّوْءِ بَرَاءَ ۃً۔سبحان کے معنی عیوب سے پاک سمجھنے اور پاک کرنے کے ہیں (اقرب) یُشْرِکُوْنَ اَشْرَکَ کا فعل مضارع ہے جس کے معنی ہیں جَعَلَ لَہُ شَرِیْکًا۔کسی کو کسی کا شریک قرار دیا اور حصہ دار ٹھہرایا۔(اقرب) تفسیر۔پہلی سور ۃ میں کہاتھا کہ اِنَّ السَّاعَۃَ لَاٰتِیَۃٌ۔اب فرمایا کہ اب تو اس ساعت کو آیاہواہی سمجھو۔یعنی وہ اب دروا زے پر ہے۔قرآن کے محاورہ کے مطابق ماضی یقین اورقربِ وقوع کے اظہار کے لئے بھی آتی ہے اوراس جگہ یہی مراد ہے۔اَمْرُاللّٰہِ کے دو معنے اَمْرُاللّٰہِ۔امراللہ کے دومعنے ہوسکتے ہیں۔(۱)وہ وعید جس کا پچھلی سورتوں میں ذکر تھا۔(۲)وہ وعدہ جس کی طرف وَاخْفِضْ جَنَاحَکَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ میں اشارہ کیاگیاتھا۔اس جگہ دونوں معنے چسپاں ہوتے ہیں۔اوربتایاگیاہے کہ کفار کی سزا اورمومنوں کی کامل اورآزاد تربیت کرنے کا وقت آگیا ہے۔فَلَا تَسْتَعْجِلُوْہُ میں دو امور کی طرف اشارہ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْہُ۔اس میں بھی دونوں امور کی طرف اشارہ ہے۔(۱)عذاب مانگنے میں اب جلدی نہ کرو۔و ہ تواب تمہارے دروازوں پرہے۔(۲)تم مسلمانوں کے نئے نظام کاباربار مطالبہ کرتے تھے لو وہ اب آپہنچا۔اب اس کی نسبت جلد آنے کامطالبہ نہ کرو کہ وہ مطالبہ پوراہونے لگاہے۔ترتیب سور مضامین کے لحاظ سےہے اَتٰۤى اَمْرُ اللّٰهِ کے الفاظ بتاتے ہیں کہ یہ سورۃ سورئہ حجرکی پیشگوئی کی وضاحت کرتی ہے اوراس کامضمون اس کے مضمون کے تسلسل میں ہے اوراس کااس مقام پر رکھاجانابتاتا ہے کہ قرآن کریم کی سورتیں مضمون کے لحاظ سے آگے پیچھے رکھی گئی ہیں نہ کہ لمبائی اورچھوٹائی کے لحاظ سے۔جیسا کہ بعض