تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 97 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 97

ہوں گی۔اَوَ لَمْ يَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَيْءٍ يَّتَفَيَّؤُا ظِلٰلُهٗ اور کیا باوجود اس کے کہ وہ ذلیل ہورہے ہیں انہوں نے (کبھی)اللہ(تعالیٰ)کے حضور(تذلّل کے ساتھ )جھکتے عَنِ الْيَمِيْنِ وَ الشَّمَآىِٕلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ ہوئے جوکچھ بھی اللہ (تعالیٰ) نے (ان کے لئے )پیدا کیا ہے اُسے غور سے نہیں دیکھا کہ اس کے سائے دائیں وَ هُمْ دٰخِرُوْنَ۰۰۴۹ جانب سے اورشمالی جانبوں سے اِدھر اُدھر ہورہے ہیں۔حلّ لُغَات۔یَتَفَیَّؤُایَتَفَیَّؤُا تَفیَّأَ سے مضارع مذکر غائب کاصیغہ ہے اورتَفَیَّأَتِ الظِّلَالُ کے معنے ہیں: تَقَلَّبَتْ۔سائے ادھر سے اُدھر ہوگئے۔(اقرب) دَاخِرُونَ دَاخِرُوْنَ دَاخِرٌ سے جمع کاصیغہ ہے اوردَاخِرٌ دَخَرَ وَدَخِرَ سے اسم فاعل ہے اوردَخَرَ کے معنے ہیں : ذَلَّ وَصَغُر ذلیل اورچھوٹاہوگیا۔وَفِی الْقُرْآنِ ’’سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ‘‘ اَیْ اَذِلَّاءَ مُھَانِیْنَ۔اور قرآن مجید کی آیت ’’سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ‘‘ میں داخرین کے معنے ذلیل کے ہیں۔یعنی وہ ذلیل ہوکرجہنم میں داخل ہوں گے۔(اقرب) تفسیر۔مختلف اشیاء کے زوال سے کفار کو انتباہ اس آیت میں کفار کو توجہ دلائی ہے کہ کیاتم اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کرتے ہوئے اوردلوں میں خشوع پیداکر تے ہوئے خدا تعالیٰ کے قانون پر غور نہیں کرتے کہ کس طرح ہرشے پرایک دن زوال آتا ہے۔ہرقوم ایک دن ختم ہوجاتی ہے شہر اجڑ جاتے ہیں۔حکومتیں بدل جاتی ہیں۔ملک تباہ ہوجاتے ہیں۔امیر غریب اورغریب امیرہوجاتے ہیں۔غرض ہرچیز کاسایہ ایک وقت آکر سمٹ جاتاہے یعنی اُسے جورتبہ اوردرجہ اوراثراورنفوذ یارعب یاشوکت یاشہرت حاصل ہوتی ہے جاتی رہتی ہے۔پھر اس عام قانون سے تم کیوں فائدہ نہیں اٹھاتے۔اورغرور اورتکبر کو چھو ڑکر حقیقت پر غورنہیں کرتے تاتم کو عبرت حاصل ہو اور تم سچائی کو قبول کرلو۔