تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 89
شان ایزدی کا اظہار ہوگا۔کہ تیری اپنی کوئی ہستی نہیں۔یہ نَے تو اسی وقت تک دل لبھانے والی آواز سے بجتی ہے جب تک کہ آسمانی بادشاہ کے منہ میں ہے اس کے منہ سے ہٹا لو تو خالی لکڑی ہی لکڑی ہے اور کچھ بھی نہیں۔وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ اَزْوَاجًا وَّ اور ہم نے تجھ سے پہلے (بھی) یقیناًکئی رسول بھیجے تھے اور انہیں بیویاں اور بچے( بھی) دئیے تھے اور کسی رسول ذُرِّيَّةً١ؕ وَ مَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ يَّاْتِيَ بِاٰيَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ کےلئے ممکن نہ تھا کہ وہ اللہ (تعالیٰ) کے اذن کے سواء( اپنی قوم کے پاس) کوئی نشان لاتا ہر زمانہ کی انتہاء کے لئے اللّٰهِ١ؕ لِكُلِّ اَجَلٍ كِتَابٌ۰۰۳۹ ( خدا تعالیٰ کی طرف سے )ایک (خاص) حکم ہوتاہے۔حلّ لُغَات۔أَلْاِذْنُ کے معنے ہیں اَلْاِجَازَۃُ۔اجازت۔اَلْاِرَادَۃُ۔ارادہ۔اَلْعِلْمُ۔علم۔(اقرب) أَ لْاَجَلُ۔أَ لْاَجَلُکے معنے ہیں مُدَّۃُ الشَّیْءِ۔کسی چیز کی مدّت۔وَوَقْتُہُ الَّذِیْ یَحلُّ فِیْہِ۔کسی امر کی وہ مدت جب جاکر وہ واقعہ ہوتا ہے۔(اقرب) اَلْکِتَابُ اَلْکِتَابُ کے معنے ہیں اَلْحُکْمُ۔حکم۔اَلْفَرْضُ۔فرض۔اَلْقَدْرُ۔قدر۔اندازہ۔(اقرب) لِكُلِّ اَجَلٍ كِتَابٌ کے معنے لِكُلِّ اَجَلٍ كِتَابٌ کے معنے ہوئے ہر مدت کے لئے فیصلہ الٰہی میں حکم موجود ہے۔کتاب کی اجل نہیں کہا بلکہ اجل کی کتاب کہا ہے۔یعنی ہر عمل کا نتیجہ نکلنے کے لئے ایک خاص حکم ہے۔ایک خاص وقت ہے۔تفسیر۔اس آیت میں پہلے مضمون کو دہرایا ہے۔یعنی جو مضمون پہلے رکوع میں آیا تھا اسی کو آخر میں دوبارہ بیان کیا ہے۔جو یہ ہے کہ جس قسم کے حالات میں پہلے رسول آتے رہے انہی حالات کے ماتحت تو آیا ہے۔کفار کا یہی سوال تھا کہ تو بے سامان آیا ہے۔سو اس کا یہ جواب فرمایا کہ تجھ سے پہلے بھی جو رسول ہم نے بھیجے تھے وہ بھی تو اسی طرح بے سامان ہی آئے تھے۔ا ن کے ساتھ بھی تیری طرح انسانی حاجتیں لگی ہوئی تھیں۔ان کے بھی بیوی بچے تھے۔جن کی پرورش کا انہیں انتظام کرنا پڑتا تھا۔جسمانی ذمہ داریاں تھیں جنہیں ادا کرنا پڑتا تھا۔مگر