تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 90
باوجود حاجات کی موجودگی کے اور سامانوں کے فقدان کے وہ کامیاب ہوئے۔بیوی بچوں کا ذکر یہ بتانے کے لئے کیا کہ آزاد انسان زیادہ دلیری سے قربانی کرسکتا ہے۔لیکن بیوی بچے کام میں قدم قدم پر روک ہوتے ہیں۔پس گویا دوہری روکیں ان کے راستہ میں بھی تھیں۔اول سامان نہ تھے۔پھر جو سامان میسر تھے ان کے استعمال میں بھی بیوی بچوں کی وجہ سے روکیں تھیں۔مگر پھر بھی وہ کامیاب ہوئے۔اسی طرح اب محمد رسول اللہ صلعم کامیاب ہوں گے۔مگر ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ گو ہم نے انہیں کامیاب کیا۔اور یہ عظیم الشان صداقت کا نشان ان کو ملا لیکن ہم نے یہ نہیں کیا کہ ان کے لئے لوگوں کی مرضی کے مطابق نشان دکھایا ہو۔جو نشان ہم نے مناسب سمجھا وہ دکھایا۔قرآن کریم میں جہاں کفار کی طرف سے نشان کے مطالبہ کا ذکر ہو اور ساتھ تشریح نہ ہو وہاںنشان سے مراد عذاب ہوتا ہے۔پس اس جگہ بھی عذاب ہی مراد ہے۔اور چونکہ اس جگہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ اگر خدا تعالیٰ نے نبیوں کو دنیا کی اصلاح کے لئے بھیجا تھا تو کیا روک تھی کہ ان کے ہاتھوں میں سزا بھی رکھ دیتا۔تاکہ لوگوں کو حق کی مخالفت کی جرأت نہ رہتی۔آخر دنیوی حکومتیں بھی تو اپنے ماتحتوں کو ایک حد تک سزا کا اختیار دیتی ہیں۔اس کا جواب لِكُلِّ اَجَلٍ كِتَابٌ کے الفاظ میں دیا جس کا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نےبنی نوع انسان کی حالت کا اندازہ لگا کر نہ صرف یہ فیصلہ کیاہے کہ کس کس عمل کی کیا کیا پاداش چاہیے بلکہ یہ بھی کہ کس عمل کا نتیجہ کس وقت نکلنا اس شخص اور دوسرے شخصوں کے لئے زیادہ مفید ہوگا؟ اور ہر سزا کے لئے اس نے ایک وقت مقرر کر چھوڑا ہے۔اگر وہ سزا نبیوں کے ہاتھ میں رکھتا تو وہ چونکہ عالم الغیب نہ ہوتے وہ سزا لوگوں کے مطالبہ پر دے کر اس حکمت کو باطل کر دیتے۔دنیوی حکومتوں اور آسمانی حکومت میں یہ بھی ایک فرق ہے کہ دنیوی حکومتیں جرم کے مطابق سزا تجویز کرکے ہر جرم پر سزا دے دیتی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ صرف یہی نہیں دیکھتا کہ کس نے جرم کیا ہے بلکہ یہ بھی کہ اس جرم کی سزا کو کس وقت جاری کیا جائے؟ تو زیادہ مؤثر یا زیادہ مفید ہوگی۔یہ ایک اہم سوال ہے کہ سزا کا وقت سزا کے اثر کو بہت کچھ بڑھا گھٹا دیتا ہے۔اور اس لئے کامل اور بے عیب فیصلہ وہی ہوسکتا ہے جس میں سزا کی تعیین ہی نہ ہو بلکہ سزا کے وقت کو بھی حکمت کے ماتحت معین کیا جائے۔لِكُلِّ اَجَلٍ كِتَابٌ میں تقدیم و تاخیر نہیں اس آیت کو مفسرین نے بڑا غلط سمجھا ہے۔انہوں نے اس میں تقدیم تاخیر مانی ہے اور اس کے یہ معنی سمجھے ہیں کہ ہر کتاب کے لئے ایک وقت ہے۔حالانکہ خدا تعالیٰ کو تقدیم و تاخیر کی ضرورت نہیں۔جو لفظ اس آیت میں ہے جس ترتیب سے ہے وہی صحیح ہے۔کتاب کی اجل نہیں بتائی۔بلکہ اجل کی کتاب کاہی ذکر ہے اور کوئی تقدیم وتاخیر نہیں بلکہ یہ فرماکر کہ ہر مدت کے لئے فیصلہ الٰہی میں حکم موجود ہے ایک