تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 88
میں ہے اَعْرَبَ الشَّیْءَ اَبَانَہٗ وَاَفْصَحَہٗ خوب بین اور واضح کر دیا۔عَنْ حَاجَتِہٖ اَبَانَ عَنْھَا کھول کر بیان کیا۔کَلَامَہُ: حسَّنَہٗ وَاَفْصَحَ وَلَمْ یَلْحَنْ فِی الْاِعْرَابِ۔بات میں حسن پیدا کیا۔اور اسے خوب واضح کیا۔اور تلفظ میں بھی کوئی غلطی نہ کی۔بِحُجَّتِہٖ: اَفْصَحَ بِہَا۔اپنی بات خوب کھول کر مدلل طور پر بیان کی۔اور مفردات راغب میں ہے اَلْعَرَبِیُّ :اَلْمُفْصِحُ۔عربی کے معنی ہیں اپنے مدعا کو خوب صفائی اور وضاحت کے ساتھ بیان کرنے والا۔وَالْاِعْرَابُ اَلْبَیَانُ۔اور اعراب کے معنے کھولنے اور واضح کرنے کے ہیں۔پس ان معنوں کی رو سے قُرْاٰنٌ عَرَبِیٌّ کے معنی ہوئے ایسی کتاب جو ہمیشہ پڑھی جانے والی اور اپنے مطالب کو نہایت وضاحت کے ساتھ اور مدلل طور پر بیان کرنے والی ہے۔اَھْوَاءُ۔ھَوٰی کی جمع ہے اور اَلْھَوی کے معنے ہیں اِرَادَۃُ النَّفْسِ۔ارادہ۔خواہش۔فُلَانٌ اتَّبَعَ ھَوَاہُ اِذَا اُرِیْدَ ذَمُّہُ۔اور جب فُلَانٌ اَتّبَعَ ھَوَاہُ کا محاورہ بولتے ہیں تو اس کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ وہ اپنی خواہشات کے پیچھے لگا ہوا ہے۔اور یہ بول کر مذمت مقصود ہوتی ہے۔(اقرب) تفسیر۔عَرَبِيًّا کے لفظ سے عربی ہونا مراد نہیں عَرَبِيًّا کے لفظ میں صرف عربی ہونا مراد نہیں کیونکہ عربی تو ہر عرب بولتا ہے۔مطلب یہ ہے کہ اس کے الفاظ میں معانی کی ایسی وسعت ہے کہ سوائے خدا تعالیٰ کے اس وسعت کو کوئی پیدا نہیں کرسکتا۔پس اگر اسے بدلا جائے تو فوراً اس کی شان میں کمی آجائے گی۔کہتے ہیں کسی امیر نے ایک ادیب سے کہا کہ قرآن کی مثل تو بناؤ۔اس نے کہا اس کے لئے فارغ دماغ چاہیے۔عمدہ باغ عمدہ مکان اور فراغت کی ضرورت ہے۔امیر نے سب کچھ مہیا کر دیا۔نوکر چاکر دے دیئے۔وہ عمدہ لباس پہنتا۔عیش کرتا اور خوب سیر کرتا رہتا۔چھ ماہ کی مقررہ میعاد کے بعد جب اس امیر نے سوال کیا کہ کیا کچھ تیار کیا تو ادیب نے کاغذوں کا ایک انبار دکھا کر کہا کہ میں اس عرصہ میں فارغ نہیں بیٹھا رہا۔میں نے دیانتداری سے کام کیا ہے اور یہ ڈھیر اس کی شہادت ہے۔مگر قرآن کی مثل مجھ سے نہیں بن سکی۔کیونکہ جو آیت نکالتا ہوں اس میں لکھا ہوتا ہے ہم یوں کر دیں گے، تیرے دشمنوں کو یوں تباہ کیا جائے گا اور تیرے دوستوں کو یوں ترقی دی جائے گی۔مگر میں ان باتوں میں سے کوئی بھی نہیں لکھ سکتا۔میں تو روٹی بھی تیری کھاتا ہوں۔پس مجھ سے قرآن کی مثل نہیں بن سکی۔عَرَبِيًّا کا یہی مطلب ہے کہ اس میں غیر معمولی وسعتِ مضامین رکھی گئی ہے۔جو انسانی طاقت سے بالاتر ہے۔وَ لَىِٕنِ اتَّبَعْتَ میں ہر مخاطب بھی مرا د ہے اور آنحضرت ؐ بھی مراد ہو سکتے ہیں وَ لَىِٕنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ۔اس میں ہر مخاطب بھی مراد ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی مراد ہوسکتے ہیں۔اور اس صورت میں