تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 5 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 5

اَلرَّبُّ۔مالک، آقا یا مطاع مستحق یا صَاِحبُ الشَّیءِ یعنی کسی چیز والا۔رَبَّ الشَّیْءَ۔جَمَعَہٗ اس چیز کو جمع کیا مَلَکَہٗ اس کا مالک ہوا۔اَلْقَوْمَ سَاسَھُمْ وَکَانَ فَوْقَھُمْ قوم پر حکومت اور سیاست کی۔النِّعْمَۃَ۔زَادَھَا نعمت کو بڑھایا۔اَ لْاَمْرَ۔اَصْلَحَہٗ وَاَتَمَّہٗ کام کو درست اور مکمل کیا۔الدُّھْنَ۔طَیَّبَہٗ واَجَادَہٗ۔تیل میں عمدگی اور خوبی پیدا کی۔الصَّبِیَّ۔رَبَّاہ حَتّٰی اَدْرَکَ بچہ کی تربیت کی حتیٰ کہ وہ اپنے کمال کو پہنچ گیا۔(اقرب) تفسیر۔پہلی سورتوں کے مقطعات اور اس سورۃ کے مقطعات میں فرق (المر) پہلی تینوں سورتوں کے شروع میں الر تھا۔اس سورہ کے شروع میں ان تینوں حروف میں میم زائد کر دیا گیا ہے۔جس سے اس طرف اشارہ ہے کہ اس کا مضمون پہلی تین سورتوں سے کسی قدر مختلف ہو گیا ہے۔جیسا کہ سورہ یونس کے شروع میں حروف مقطعات کی بحث میں بتایا گیا ہے۔الٓمّرٰ کے معنی م اعلم کا قائم مقام ہے۔پس ان حروف کے معنے یہ ہوئے میں اللہ سب سے زیادہ جاننے والا اور دیکھنے والا ہوں۔گویا دیکھنے کی صفت کے ساتھ علم کی صفت کو شامل کر دیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ اور انسان کے متعلق دیکھنے کے لفظ کے استعمال میں فرق یاد رکھنا چاہیے کہ انسان کے متعلق جب دیکھنے کا لفظ بولا جائے تو اس سے مراد رنگ اور طول و عرض کا نظر آنا ہوتا ہے اور جاننا زیادہ وسیع ہوتا ہے۔کیونکہ ناک سے کان سے چھونے سے جن چیزوں کا پتہ لگتا ہے ان کے لئے بھی جاننے کا لفظ اسی طرح استعمال ہوتا ہے جس طرح دیکھی ہوئی چیزوں کے متعلق مگر سوال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جو آنکھوں اور دوسرے حواس سے بے نیاز ہے اس کے متعلق جاننے اور دیکھنے کے الفاظ کن معنوں میں استعمال ہوتے ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ یہ الفاظ اللہ تعالیٰ کے لئے مجازاً استعمال ہوتے ہیں اس لئے انسانی استعمال پر ان کا قیاس کرلینا چاہیے۔پس جس طرح انسان کے لئے دیکھنے کا لفظ ایک محدود ظہور کے موقع پر بولا جاتا ہے اور جاننا باریک محسوسات کے لئے بھی۔اسی طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ جب خدا تعالیٰ رؤیت کا لفظ بولتا ہے تو اس سے مراد یہ ہے کہ جن چیزوں کو انسان دیکھتا ہے اللہ تعالیٰ ان کو اس سے بھی زیادہ دیکھتا ہے اور جن چیزوں کو انسان دوسرے حواس یا شعور سے محسوس کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ مکمل طور پر انہیں جانتا ہے۔پس گو خدا تعالیٰ کے لئے سب چیزوں کا علم یکساں ہے مگر اس جگہ یہ دو لفظ انسان کی رؤیت اور اس کے علم کے مقابل پر استعمال ہوئے ہیں یعنی ان چیزوں کو بھی جانتا ہے جنہیں انسان دیکھتا ہے اور ان کو بھی جن کو دوسرے حواس سے جانتا ہے خواہ ظاہری ہوں یا باطنی۔تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِکے معنے تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ۔یعنی وہ آیات جو اس سورۃ یا قرآن کریم میں مذکور ہیں اس موعود