تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 6
کتاب کا حصہ ہیں جس کی نسبت سب دنیا کے ذہنوں میں انتظار چلا آرہا تھا۔یا اس کامل کتاب کی جس کی خبر پہلے دی جاچکی ہے۔اس لئے تم اس کے مقابلے پر کامیاب نہیں ہوسکتے۔کیا جس چیز کے متعلق اللہ تعالیٰ ہر نبی کی معرفت خبر دیتا چلا آیا ہے آج وہ اس کو یونہی چھوڑ دے گا۔یا اس کے کمالات کے مقابلہ میں تمہارے غلط دعوے ٹھیر سکیں گے؟ وَالَّذِيْۤ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ۔۔۔۔الْحَقُّکی تشریح وَ الَّذِيْۤ اُنْزِلَ۔۔۔۔۔الْحَقُّ۔فرماتا ہے کہ اس کتاب میں جو باتیں بیان کی گئی ہیں۔آخر ہوکر رہنے والی ہیں۔انہیں کوئی طاقت روک نہیں سکتی۔ساری آیت کا یہ مطلب ہے کہ انسان کی جستجو ہمیشہ یہ ہوتی ہے کہ مجھے صحیح علم حاصل ہو جائے لیکن ان لوگوں پر تعجب ہے کہ جب وہ کتاب انہیں ملی جو سب شبہات سے پاک ہے تو یہ اس پر ایمان لانے سے گریز کرتے ہیں اور یقین کو چھوڑ کر شکوک میں مبتلا ہیں۔اَللّٰهُ الَّذِيْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ثُمَّ اللہ (تعالیٰ) وہ ہے جس نے آسمانوں کو ایسے ستونون کے بغیر بلند کیا ہے جو تمہیں نظر آتے ہوں (اور) پھر وہ عرش پر اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ قائم ہواہے اور سورج اور چاند کو اس نے بغیر مزدوری کے( تمہاری) خدمت پر لگایا ہے (چنانچہ) ہر ایک (سیارہ) يَّجْرِيْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ يُدَبِّرُ الْاَمْرَ يُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ ایک معین میعاد تک (اپنی مقررہ گردش کے مطابق) چل رہا ہے وہ ہر امر کا انتظام کرتاہے (اور) وہ (اپنی) آیات کو لَعَلَّكُمْ بِلِقَآءِ رَبِّكُمْ تُوْقِنُوْنَ۰۰۳ کھول کر بیان کرتاہے تاکہ تم (لوگ) اپنے رب سے ملنے کا یقین رکھو۔حلّ لُغَات۔عَمَدٌ۔عِمَادٌ کی اسم جمع ہے اور اَلْعِمَادُ کے معنی ہیں مَایُسْنَدُ بِہٖ۔وہ چیز جس پر سہارا لیا جائے۔اَ لْاَ بْنِیَۃُ الرَّفِیْعَۃُ اونچی اونچی بلند دیواروں اور عمارتوں کو بھی عِمَاد کہتے ہیں۔(اقرب) سَخَّرَہٗ کَلَّفَہٗ عَمَلًا بِلَا اُجْرَۃٍ۔سَخَّرَہٗ کے معنے ہیں کہ اس کو بغیر اجرت یا بدلہ کے کسی کام پر لگادیا۔ذَلَّـلَہٗ