تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 4
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۰۰۱ میں اللہ (تعالیٰ)کا نا م لے کر( شروع کرتا ہوں) جو بے حد کرم کرنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔الٓمّٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ١ؕ وَ الَّذِيْۤ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ الٓمٓر۔یہ کامل کتاب کی آیات ہیں۔اور جو (کلام) تجھ پرتیرے رب کی طرف سے اتارا گیا ہے وہ بالکل حق ہے۔رَّبِّكَ الْحَقُّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُوْنَ۰۰۲ لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔حلّ لُغَات۔تِلْکَ اٰیٰتٌ اور اَلْکِتٰبُ کی تشریح کے لئے دیکھو سورہ یونس آیت ۲اور ربّ کے معنوں کے لئے دیکھو سورہ یونس ۴۔تِلْکَ۔اسم اشارہ ہے۔اور دور کی چیز کی طرف اشارہ کرنے کے لئے آتا ہے۔آیاتٌ۔آیَۃٌ کی جمع ہے۔جس کے معنی علامت، نشان اور دلیل کے ہوتے ہیں۔قرآن کریم کے ہر اک ایسے ٹکڑے کو جسے کسی لفظی نشان کے ساتھ دوسرے سے جدا کر دیا گیا ہو آیَۃٌ کہتے ہیں (تاج)۔آیت کی وجہ تسمیہ میرے نزدیک قرآنِ کریم میں وارد فقروں کا نام آیَۃٌ اسی حکمت سے رکھا گیا ہے کہ تا لوگ یہ سمجھ لیں کہ قرآن کریم کے مضامین میں مکمل ترتیب ہے اور ہر فقرہ دوسرے فقرہ کے معانی کے لئے بطور دلیل ہے۔بغیر اس کے مدنظر رکھے مطلب پوری طرح نہیں سمجھ میں آسکتا۔دوسرے اس لئے بھی کہ ہر ہر ٹکڑا خدا تعالیٰ کا ایک نشان ہے۔عیسائی اعتراض کرتے ہیں کہ قرآن نے معجزات کا دعویٰ نہیں کیا۔حالانکہ قرآن کریم تو اپنے ہر فقرہ کا نام آیت رکھ کر اسے معجزات پر مشتمل بلکہ خود معجزہ قرار دیتا ہے۔اَلْکِتَابُ۔مَصْدَرٌ یہ لفظ دراصل کتب کی مصدر ہے۔کَتَبَ الْکَتِیْبَۃَ جَـمَعَھَا۔لشکر کو جمع کر لیا۔کَتَبَ السِّقَآءَ۔خَرَزَہٗ بِسَیْرَیْنِ۔چمڑے کیتنیوں کے ساتھ اسے سی دیا(تاج )۔انہی معنوں کی رو سے کتاب کتاب کہلاتی ہے۔کیونکہ اس میں مضامین کو جمع کر دیا جاتا ہے اور مختلف اوراق کو ایک جگہ اکٹھا کرکے سی دیا جاتا ہے۔کتاب۱ کے معنی اس خالی کاغذوں کے مجموعہ کے بھی ہوتے ہیں جس پر کچھ لکھا جائے اور کتاب۲ تحریر کو بھی کہتے ہیں اور کتاب۳ کے معنی فرض اور حکم اور اندازہ کے بھی ہوتے ہیں اور کتاب۴ خط کو بھی کہتے ہیں۔(اقرب)