تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 72
وَعْدُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيْعَادَؒ۰۰۳۲ ان پر آتی یا ان کے گھر کے قریب نازل ہوتی رہے گی یہاں تک کہ اللہ( تعالیٰ) کا (آخری) وعدہ آجائے گا۔اللہ (تعالیٰ) اس وعدہ کے خلاف ہرگز نہیں کرے گا۔حلّ لُغَات۔سُیِّرَتْ۔سَیَّرَہٗ کے معنے ہیں جَعَلَہٗ سَائِرًا۔اس کو چلایا۔سَیَّـرَالجُلَّ عَنْ ظَھْرِالدَّابَّۃِ۔اَلْقَاہُ۔سواری کا پالان اتار کر زمین پر رکھ دیا۔اَلْمَثَلَ۔جَعَلَہٗ یَسِیْرُ بَیْنَ النَّاسِ کسی مثال کو لوگوں میں مشہور کیا۔مِنْ بَلَدِہٖ۔اَخْرَجَہٗ وَأَجْلَاہٗ۔کسی کوشہر بدر کیا۔اور جلاوطن کیا۔اَلْجِبَالُ۔اَلْجَبَلُ کی جمع ہے اور اَلْجَبَلُ کے معنے ہیں کُلُّ وَتَدٍ لِلْأَرْضِ عَظُمَ وَطَالَ۔زمین پر اونچے ٹیلے کو جبل کہتے ہیں۔خِلَافُ السَّاحِلِ پتھریلی زمین۔سَیِّدُ الْقَوْمِ وَعَالِمُھُمْ۔قوم کا سردار اور عالم۔یُقَالُ فُلَانٌ جَبَلُ قَوْمِہٖ۔چنانچہ محاورہ ہے فلاں شخص اپنی قوم کا جبل ہے۔یعنی سردار ہے یا قوم میں عالم کی حیثیت رکھتا ہے۔(اقرب) پس سُيِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ کے معنی ہوں گے کہ اس کے ذریعے سے پہا ڑاپنی جگہ سے ہلا دیئے جائیں۔یعنی زلزلے آئیں۔(۲) سردار یا عالم اڑا دیئے جائیں۔(۳)بادشاہتوں کو اڑا دیا جائے۔جَبَل کا لفظ روحانیت میں مشکلات پر بھی دلالت کرتا ہے۔اس لحاظ سے معنے ہوں گے کہ مشکلات کو دور کیا جاوے۔قُطِّعَتْ۔قَطَعَ کے معنی ہیں کاٹا۔اور قَطَّعَ۔قَطَعَ کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ قَطَّعَ میں مبالغہ پایا جاتا ہے اور قَطَّعَ اللہُ عَلَیْہِ الْعَذَابَ کے معنے ہیں لَوَّنَہٗ وَجَزَّأَہٗ۔کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر قسم قسم کے عذاب نازل کئے۔یہاں تک کہ اس کے بال سفید ہو گئے۔اور جتھا ٹوٹ گیا۔(اقرب) قَطْعُ الْاَرْضِ یعنے زمین کاٹنے سے مراد یا تو یہ ہے کہ دشمنوں کا علاقہ کاٹ کر مسلمانوں کو دیا جاوے گا یا یہ تعلیم فوراً زمین کو طے کرتی ہوئی پھیل جائے گی۔یَایْئَسْ۔یَئِسُ سے فعل مضارع واحد مذکر کا صیغہ ہے اور یَئِسَ کے معنے ہیں قَنَطَ۔ناامید ہو گیا۔عَلِمَ جان لیا۔(اقرب) آیت اَفَلَمْ يَايْـَٔسِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا میں یایئس کے معنے جاننے کے ہیں۔یعنی کیا انہیں معلوم نہیں ہوا۔أَلْقَارِعَۃُ أَ لْقَارِعَۃُ کے معنے ہیں اَلدَّاھِیَۃُ بلائے ناگہانی، صدمہ۔اَلْقِیَامَۃُ۔قیامت۔یُقَالُ قَرَعَتْھُمْ قَوَارِعُ الدَّ ھرِ أَیْ اَصَابَتْھُمْ نَوَازِلُہُ الشَّدِیْدَۃُ اور جب قَرَعَتْھُمْ قَوَارِعُ الدَّ ھْرِ کا محاورہ بولیں