تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 73
تو یہ معنی مراد ہوتے ہیں کہ ان کو سخت تکالیف پہنچیں۔اَلنَّکْبَۃُ المُہْلِکَۃُ ہلاک کر دینے والی مصیبت۔سَریَّۃُ النَّبِیِّ الْمُسْلِمِیْنَ آنحضرتؐ کے چھوٹے لشکر کو بھی قَارِعَہ کہتے تھے۔قَارِعَۃُ الطَّرِیْقِ۔وَمُعْظَمُہُ وَاَعْلَاہُ۔راستے کے اونچے بڑے حصہ کو بھی قَارِعَہ کہتے ہیں۔حَلَّ حَلَّ الْمَکَانَ اور حَلَّ بِہٖ کے معنے ہیں نَزَلَ بِہٖ کسی جگہ اترا۔بِہٖ فِی الْمَکَانِ۔اَحَلَّہٗ اِیَّاہُ۔اس کو کسی جگہ اتارا۔اَلرَّجُلُ۔عَدَا۔زیادتی کی۔(اقرب) تفسیر۔یعنی اگر کوئی ان صفات والا قرآن ہو جو اس آیت میں بیان ہوئی ہیں تب بھی یہ لوگ ایمان نہ لائیں۔یہ مراد نہیں کہ قرآن میں یہ صفات نہیں بلکہ مراد یہ ہے کہ قرآن کریم سے یہ صفات ظاہر ہوں گی مگر پھر بھی یہ لوگ فائدہ نہ اٹھائیں گے۔جیسے حدیث میں ہے لَوْکَانَ الْاِیْمَانُ مُعَلَّقًا بِالثُّرَیَّا لَنَالَہٗ رَجُلٌ مِّنْ فَارِس (بخاری کتاب التفسیر تفسیرسورة الجمعة)۔اس سے یہ مراد نہیں کہ نہ ایمان ثریا پر چلا گیا ہے اور نہ رجل فارس اسے واپس لائے گا۔بلکہ یہ مطلب ہے کہ ایمان ایک دن ثریا سے معلق ہو جائے گا اور رجل فارس اسے واپس لائے گا۔پس اس جگہ کفار کی سنگدلی ظاہر کرنی مقصود ہے۔جو صفات اس جگہ قرآن کریم کی بتائی ہیں وہ یہ ہیں۔(۱)سُيِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ۔اس کے ذریعہ سے پہاڑوں کو ان کی جگہ سے ہٹا دیا جائے۔ظاہری معنے لئے جاویں تو مراد یہ ہوگی کہ اس میں شدید زلازل کی خبر دی گئی ہو جن سے پہاڑوں کی چوٹیاں اپنی جگہوں سے ہل جائیں۔قرآن کریم میں ایسی زبردست پیشگوئیاں مادی تغیرات کی موجود ہیں جیسا کہ سورئہ زلزال میں۔اور اگر استعارہ مراد لیا جائے تو معنے یہ ہوں کہ بڑی بڑی مشکلات دور کر دی جائیں۔کیونکہ پہاڑ استعارۃً مصیبت اور مشکل کو بھی کہتے ہیں۔یہ صفت بھی قرآن کریم میں موجود ہے کہ علمی، اخلاقی، روحانی، تمدنی، اقتصادی سیاسی قومی مشکلات کا حل قرآن کریم نے ایسا کیا ہے کہ کوئی دوسری کتاب اس میں اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔اور اگر جبل کے دوسرے معنے لئے جائیں جو سردارِ قوم یا عالم کے ہیں تو اس طرح بھی ٹھیک ہے کیونکہ قرآن کے ذریعہ سے پرانے سردار بھی اڑ گئے اور پرانے عالم بھی۔اس نے سیادت کا بھی رنگ بدل دیا۔بادشاہت کی جگہ خلافت کو قائم کیا۔اور علم کا پرانا مفہوم جو وہم اور تخمین پر مبنی تھا اس کی جگہ تجربہ مشاہدہ اور خواص اشیاء پر علم کی بنیاد رکھی۔تمام قرآن کریم اس مضمون سے پر ہے کہ وہم کی جگہ فکر اور عقل سے کام لو اور سیاروں پہاڑوں، دریاؤں، شہروں موسمی تغیرات اور خواص اشیاء کو اپنی آنکھوں سے دیکھو اور مشاہدہ سے اس کی حقیقت دریافت کرو۔کہ یہ سب کچھ تمہارے فائدہ اور خدمت کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔پس قرآن کریم نے پرانی سیاست اور پرانے علم