تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 71
قوموں کی اصلاح کا ذریعہ توکل اور دعا ہے۔پس قومی اصلاح کا اصل ذریعہ توکل اور دعا ہے۔جو لوگ ظاہری اسباب سے دلوں کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔ظاہری اسباب سے ظاہر ہی درست ہو سکتا ہے دلوں میں ایمان اور اطمینان نہیں بھرا جا سکتا یہی وجہ ہے کہ یورپ باوجود پوری سعی کے اخلاقی ترقی میں کوئی اعلیٰ معیار پیش نہیں کر سکا جیسا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باوجود سامان نہ میسرآنے کے صحابہ کے ذریعہ سے پیش کیا۔وَ لَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُيِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ اَوْ قُطِّعَتْ بِهِ اور اگر کوئی ایسا قرآن ہو جس کے ذریعہ سے( نشان کے طور پر) پہاڑوں کو( ان کی جگہ سے ہٹا کر) چلایا گیاہو یا اس الْاَرْضُ اَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتٰى ١ؕ بَلْ لِّلّٰهِ الْاَمْرُ جَمِيْعًا١ؕ کےذریعہ سے زمین کو( ٹکڑے) ٹکڑے کیا گیا ہو یا اس کےذریعہ سےمردوں سے باتیں کی گئی ہو ں( تو کیا یہ لوگ اس اَفَلَمْ يَايْـَٔسِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ لَّوْ يَشَآءُ اللّٰهُ لَهَدَى پرایمان لے آئیں گے؟) نہیں بلکہ( ایمان لانے کا) معاملہ پورے طور پر اللہ کے اختیار میں ہے پھر کیا جو (لوگ) النَّاسَ جَمِيْعًا١ؕ وَ لَا يَزَالُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا تُصِيْبُهُمْ بِمَا ایمان لائےہیں انہیں (اب تک) معلوم نہیں ہوا کہ اگر اللہ( تعالیٰ) چاہتا تو سب لوگوں کو ہدایت دے دیتا اور صَنَعُوْا قَارِعَةٌ اَوْ تَحُلُّ قَرِيْبًا مِّنْ دَارِهِمْ حَتّٰى يَاْتِيَ ( اے رسول) جن لوگوں نے(تمہارا) انکار کیا ہے ان کے (اس) عمل کی وجہ سے ہمیشہ کوئی (نہ کوئی) سخت آفت