تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 66 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 66

وَ يَقُوْلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَيْهِ اٰيَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ اور جن لوگوں نے (تمہارا) انکار کیا ہے وہ کہتے ہیں اس پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشان کیوں نہیں اتارا قُلْ اِنَّ اللّٰهَ يُضِلُّ مَنْ يَّشَآءُ وَ يَهْدِيْۤ اِلَيْهِ مَنْ اَنَابَۖۚ۰۰۲۸ گیا۔توکہہ اللہ جسے چاہتا ہے ہلاک کر دیتا ہے اور جو(اس کی طرف) مائل ہو اسے اپنی طرف راہنمائی کرتاہے۔حل لغات۔یَھْدِیْ ھَدٰی سے ہے اور ھَدَاہُ الطَّرِیْقَ وَاِلَیْہِ وَلَہٗ کے معنے ہیں بَیَّنَہٗ لَہٗ وَعَرَّفَہٗ بِہٖ۔راستہ دکھایا ، بتایا اور واضح کیا۔ھَدَی فُلَانًا۔تَقَدَّمَہٗ اس کے آگے آگے چل کر منزل مقصود تک لے گیا۔ھَدَاہُ اللہُ اِلَی الْاِیْمَانِ اَرْشَدَہُ۔ایمان کی طرف رہنمائی کی۔(اقرب) اَنَابَ۔نَابَ سے ہے اور نَابَ اِلَیْہِ کے معنے ہیں رَجَعَ مَرَّۃً بَعْدَ اُخْرَی۔بار بار لوٹا۔اِلَی اللہِ۔تَابَ توبہ کی۔نَابَ فُلَانٌ۔لَزِمَ الطَّاعَۃَ۔اطاعت کو لازم پکڑا (اقرب) يَهْدِيْۤ اِلَيْهِ مَنْ اَنَابَ کے معنے ہوں گے جو اس کی طرف مائل ہو اسے اپنی طرف رہنمائی کرتا ہے۔تفسیر۔چونکہ پہلی آیت میں ذکر تھا کہ اللہ تعالیٰ رزق چھین بھی سکتا ہے اس پر کفار کا اعتراض بیان کیا کہ جب انہیں خدا تعالیٰ کی ان طاقتوں کی طرف توجہ دلائی جائے تو جھٹ کہتے ہیں کہ بہت اچھا اگر ایسا ہے تو یہ نشان ہمیں دکھاؤ۔یعنی ہمارا رزق چھینا جائے تب مانیں۔اس کا جواب یہ دیا کہ نشانات تو اللہ تعالیٰ کے بہت نازل ہوئے ہیں لیکن تم ا ن سے فائدہ نہیں حاصل کرنا چاہتے اور صرف یہی مطالبہ کرتے ہو کہ تم پر عذاب آئے۔گویا رحمت کے نشان علمی نشان، روحانی نشان سب بے حقیقت ہیں۔تمہارے نزدیک صرف یہی نشان ماننے کے قابل ہے کہ عذاب آجائے۔حالانکہ تباہ کر دینے والا عذاب آنے کے بعد ہدایت کا تو موقعہ ہی باقی نہیں رہتا۔پھر اس نشان سے یہ کیا فائدہ اٹھائیں گے؟ پس حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے گناہوں کے سبب سے ہلاکت کے مستحق ہو گئے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کے تباہ کرنے کا فیصلہ کر دیا ہے ورنہ ہدایت کے نشانوں سے کیوں فائدہ نہ اٹھاتے۔خدا تعالیٰ ہلاک اسی کو کرتا ہے جو اس سے دور بھاگتا ہے۔چونکہ اس جگہ شبہ پیدا ہوسکتا تھا کہ گویا خدا تعالیٰ زبردستی کسی کو گمراہ یا ہلاک کر دیتا ہے اس لئے فرمایا کہ خدا تعالیٰ بلاوجہ نہیں ہلاک کرتا بلکہ اس کی سنت ہے کہ جو اس کی