تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 65 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 65

اَللّٰهُ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَآءُ وَ يَقْدِرُ١ؕ وَ فَرِحُوْا بِالْحَيٰوةِ اللہ (تعالیٰ) جس کے لئے پسند کرتا ہے رزق فراخ کر دیتا ہے اور( جس پر چاہتا ہے) تنگ کر دیتا ہے اور یہ( لوگ) الدُّنْيَا١ؕ وَ مَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا فِي الْاٰخِرَةِ اِلَّا مَتَاعٌؒ۰۰۲۷ اس ورلی زندگی پر( ہی) خوش ہو گئے ہیں حالانکہ یہ ورلی زندگی آخرت کے مقابلہ میں محض ایک وقتی سامان ہے۔حلّ لُغَات۔یَقْدِرُ۔قَدَرَ سے ہے اور قَدَراللہُ عَلَیْہِ الْاَمْرَ کے معنی ہیں قَضٰی وَحَکَمَ بِہٖ۔اللہ نے کسی کام کا فیصلہ کیا۔عَلَیْہِ الرِّزْقَ۔قَسَمَہٗ۔رزق کو تقسیم کیا۔ضَیَّقَہٗ رزق کو تنگ کیا۔عَلَی الشَّیْءِ۔جَمَعَہٗ وَاَمْسَکَہٗ۔کسی چیز کو جمع کیا اور اس کو روکے رکھا۔(اقرب) پس اَللّٰهُ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَآءُ وَ يَقْدِرُ کے معنی ہوئے اللہ جس پر چاہتا ہے رزق فراخ کرتا ہے اور جس پر چاہتا ہے تنگ کرتا ہے۔تفسیر۔یعنی اگر یہ لوگ کہیں کہ دنیا کی ترقی تو ہمیں ملی ہوئی ہے اور اگلے جہان کی موہوم ہے۔اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم نے مان لیا تو اگلے جہان کی ترقیات تو خدا جانے ملیں یا نہ ملیں جو کچھ ملا ہوا ہے وہ تو ہاتھ سے جاتا رہے گا۔پنجابی کی مثل ہے ’’ایہہ جہان مٹھا اگلا کس ڈٹھا‘‘ یعنی یہ زندگی تو شیریں ہے دوسری زندگی کسی نے دیکھی نہیں۔کہ اس کی خاطر اسے تلخ کیا جائے۔اس وسوسہ کا جواب یہ دیا کہ دنیا کی دولتیں اور حکومتیں اور ترقیات بھی تو اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہیں اگر وہ تم سے چھین کر محمد رسول اللہ صلعم اور آپ کے متبعین کو دے دے تو تم اس کو روک نہیں سکتے۔بلکہ ہم تم کو بتا چکے ہیں کہ عنقریب ہم یہ نعمتیں مخالفوں سے چھین کر محمد رسول اللہ صلعم کے متبعین کو دے دیں گے۔پس ان کے ماننے سے دنیا کے نقصان کا نہیں دنیا کے فائدہ کا ہی احتمال ہے اور اس کے آثار ظاہر ہورہے ہیں۔لیکن بفرض محال محمد رسول اللہ صلعم کو مان کر دنیوی نقصان ہوبھی تو بھی اس کی تعلیم میں قائم رہنے والے ایسے اصول مذکور ہیں کہ ان کے مقابل پر دنیا کی نعمتیں حقیقت کیا رکھتی ہیں؟ اس میں بتایا ہے کہ ذہنی اور فکری ترقیات مادی ترقیات سے جبکہ قوتِ عملیہ کو مردہ نہ کر دیا جائے افضل ہوتی ہیں۔کیونکہ مادی ترقیات ہمیشہ ان کے تابع ہوتی ہیں۔