تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 67
طرف جھکے وہ اسے ہدایت دیتا ہے۔ہلاک اسی کو کرتا ہے جو اس سے دور بھاگتا ہے۔اور ہدایت قبول کرنے سے خود انکار کردیتا ہے۔اس میں ان لوگوں کا رد آگیا جو مشیت کا لفظ دیکھ کر کہہ دیا کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ جسے چاہتا ہے گمراہ کر دیتا ہے۔خدا تعالیٰ زبردستی گمراہ نہیں کرتا بلکہ صرف اسے گمراہ کرتا ہے یا دوسرے لفظوں میں یوں کہو کہ گمراہ قرار دیتا ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف آنا چاہتا ہی نہیں۔اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ تَطْمَىِٕنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ اَلَا یعنی جو ایمان لائے ہوں اور ان کے دل اللہ کی یادسے اطمینان پاتے ہوں سنو بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىِٕنُّ الْقُلُوْبُؕ۰۰۲۹ اللہ کی یاد ہی سے دل اطمینان پاتے ہیں۔حلّ لُغَات۔تَطْمَئِنُّ۔اِطْـمَأَنَّ سے مضارع مؤنث غائب کا صیغہ ہے اور اِطْـمَئَنَّ اِلَی کَذَا کے معنے ہیں سَکَنَ وَاٰمَنَ لَہٗ۔سکون پکڑاا ور تسلی پائی۔(اقرب)تَطْمَىِٕنُّ الْقُلُوْبُ کے معنے ہوں گے دل آرام محسوس کرتے ہیں، دل تسلی پاتے ہیں۔تفسیر۔اصل مقصود ملنے سے تڑپ دور ہوجاتی ہے لوگ مال کماتے ہیں، حکومتیں کرتے ہیں ان کو اچھی اولاد ملتی ہے، اچھی بیویاں ہوتی ہیں، اچھے دوست ملتے ہیں، تجارت میں فائدہ اٹھاتے ہیں، زراعت میں نفع حاصل کرتے ہیں، علم میں کمال حاصل کرتے ہیں۔غرضیکہ ہر چیز میں ترقی کرتے ہیں مگر پھر بھی دل مطمئن نہیں ہوتا۔ایک خواہش پوری ہوتی ہے تو دو اور تکلیف دہ خواہشات دل میں پیدا ہوجاتی ہیں اور ہر وقت دل میں یہ احساس رہتا ہے کہ گویا اصل چیز جس کی انہیں خواہش تھی انہیں ابھی نہیں ملی۔جس طرح کہ ایک بچہ جس کی ماں جدا ہو گئی ہو کبھی کسی کی چھاتی سے لگتا ہے کبھی کسی کی چھاتی سے مگر چین کسی جگہ نہیں پاتا۔کیونکہ اسے وہ مقصود جس کی اسے تلاش تھی حاصل نہیں ہوا۔یعنی اس کی حقیقی ماں اس کو نہیں ملتی۔اسی طرح دنیوی ترقی کرنے والے لوگوں کا حال ہوتا ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ ایک جنگ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کو دیکھا اس کا بچہ گم ہو گیا تھا۔وہ جس بچہ کو دیکھتی تھی اسے اپنی چھاتی سے لگا لیتی۔پیار کرتی اور پھر اسے چھوڑ کر آگے چلی جاتی۔آخر اس کو اپنا بچہ مل گیا ور اسے لے کر اطمینان سے بیٹھ گئی۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہؓ کو متوجہ کرکے فرمایا کہ جیسے اس عورت کو