تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 371 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 371

سے بھی نکلا ہے جس کے معنے جھوٹ بولنے کے ہوتے ہیں۔پس عِضَۃٌ کے معنے جھوٹ کے بھی ہیں اورٹکڑے کے بھی اورعِضِیْنَ کے معنے بہت سے جھوٹوں کے بھی ہیں اورٹکڑوں کے بھی۔اگر عِضَۃٌ۔عَضٰی یَعْضُوْا کے مادہ سے مشتق سمجھاجائے تب بھی اہل لغت کے نزدیک اس کے معنے ’’ٹکڑہ‘‘کے علاوہ ’جھوٹ‘ کے بھی ہوتے ہیں۔(اقرب) غرض ایک مادہ کے روسے عضین کے معنے ’ٹکڑوں ‘کے ہیں۔اوردونوں مادوں کے روسے اس کے معنے ’جھوٹوں‘ کے ہیں۔اور میرے نزدیک دوسرے معنے اس آیت میں زیادہ درست معلوم ہوتے ہیں۔مگران معنوں کے سمجھنے کے لئے یہ سمجھ لینا چاہیے کہ جَعَلَ کے ایک معنی ظَنَّ کے بھی ہوتے ہیں یعنی ایساسمجھا۔چنانچہ عربی کامحاورہ ہے جَعَلَ الْحَقَّ بَاطِلًا یعنے سچ کو جھوٹ سمجھا (اقرب) اس آیت کا پہلی آیت سے تعلق اورعضین کے معنے جھوٹ کرنے کی صورت میں جَعَلَ اس آیت میں انہی معنوں میںمستعمل ماننا پڑے گا۔اورترجمہ یہ ہوگا۔کہ ’’وہ لوگ جنہوں نے قرآن کو جھوٹوں کامجموعہ سمجھ رکھا ہے ‘‘ اورگزشتہ آیتوں سے مل کر مفہوم یہ بنے گا کہ اس موعود عذاب کی خبر ان کو دے دے جنہو ںنے تیری مخالفت کی ڈیوٹیاں تقسیم کررکھی ہیں۔اورقرآن کریم کوجھوٹوں کامجموعہ سمجھ رکھا ہے اوربتادے کہ اب ان لوگوں کی تباہی کا وقت آپہنچاہے۔یہ معنے ایسے واضح ہیں کہ ان سے تمام و ہ مشکلات دورہوجاتی ہیں جودوسرے مفسرین کو پیش آئی ہیں۔فَوَرَبِّكَ لَنَسْـَٔلَنَّهُمْ اَجْمَعِيْنَۙ۰۰۹۳عَمَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۰۰۹۴ سوتیرے رب کی قسم ہم ان سب سے باز پرس کریں گے ان کاموں کے متعلق جو و ہ کیا کرتے تھے۔تفسیر۔لَنَسْـَٔلَنَّهُمْ سے مراد محاسبہ اور سزا ہے فرماتا ہے کہ تیرے رب ہی کی قسم! اب ایسے سب لوگ سزاپائیں گے۔اورہم ان سب سے پوچھیں گے پوچھنے کامطلب اس جگہ وہی ہے جو پنجابی میں پوچھوں گا کاہوتاہے۔یعنی ان کی شرارتوں کااب حساب لیں گے اوران کو سخت سزادیں گے۔