تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 370
تَقَاسَمَا الْمَالَ۔اِقْتَسَمَاہُ بَیْنَہُمَا فَالْاِقتسامُ وَالتَّقَاسُمُ بمعنَی وَاحِدٍ یعنے ’’تَقَاسَمَا الْمَالَ کے معنے اِقْتَسَمَا الْمَالَ کے ہیں یعنے آپس میں مال تقسیم کرلیا۔پس اِقْتِسَامَ اورتَقَاسُمَ ایک ہی معنے رکھتے ہیں‘‘۔اس عبارت سے ظاہر ہے کہ تاج العروس والے کے نزدیک دونوں کااشتراک تقسیم کرنے کے معنوں میں ہے نہ کہ قسموں کے کھانے کے متعلق۔چنانچہ آگے تاج العروس والے نے اس آیت کو بطورشہادت پیش کیا ہے گوآگے ابن عرفہ کایہ قول بھی نقل کیا ہے کہ مُقْتَسِمِیْنَ کے معنے تَقَاسَمُوا کے ہیں۔لیکن اوپر کی تشریح کے ماتحت صاف ظاہر ہے کہ تاج والا ان معنوں کولغت کے معنی نہیں قرار دیتا بلکہ تفسیری معنے قرار دیتاہے۔مقتسمین سے مراد آنحضرت ؐ کے خلاف تدابیر کرنے والے ہیں اس تمہید کے بعد میں یہ بتاتا ہوں کہ مقتسمین سے کیا مراد ہے۔میرے نزدیک تقسیم کرنے والوں سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دشمنی کے کام تقسیم کرنے والے مراد ہیں اورمطلب یہ ہے۔کہ جن لوگوں نے تیرے خلاف تدابیر کرنے کے کاموں کوتقسیم کرلیا ہے۔کسی نے یہ ڈیوٹی اپنے ذمہ لے لی ہے کہ مکہ کے باہر کھڑاہوکر لوگوں کو ورغلائے۔کسی نے یہ ڈیوٹی لے لی ہے کہ یہ شور مچاتاپھر ے کہ اگر سچاہوتاتو ہم جو رشتہ دار ہیں کیوں نہ مانتے۔کسی نے مسلمانوں کو دکھ دینے کی ڈیوٹی اپنے ذمہ لے رکھی ہے کسی نے دوسری اقوام میں پرپیگنڈاکرنے کی ڈیوٹی۔سوان سب لوگوں کے لئے ہم نے عذاب کافیصلہ کرلیا ہے بعض لوگوں نے یہ معنے کئے ہیں کہ قرآن کو انہوں نے تقسیم کرلیا ہے کہ بعض حصہ کومانتے ہیں اوربعض کو نہیں (فتح البیان و قرطبی)۔مگر یہ معنے بھی درست نہیںمعلوم ہوتے۔آیت کا اصل مطلب کیونکہ مُقْتَسِمْ کے معنے توباہم تقسیم کرلینے کے ہیں۔اور کسی حصہ پر ایمان لانااور کسی کورد کردینا ’’باہم تقسیم‘‘کامفہوم ادانہیں کرتا۔پس کسی جزوپرایمان لانا اور کسی پر نہ لانا گوبعض کفار کاشیوہ ہے اورقرآن کریم میں مذکورہے۔مگرا س آیت میں اس مفہو م کی طرف اشارہ نہیں ہے۔الَّذِيْنَ جَعَلُوا الْقُرْاٰنَ عِضِيْنَ۰۰۹۲ جنہوں نے قرآن کو جھوٹی باتوں کامجموعہ قرار دیا۔تفسیر۔عِضِیْن کے معنے جھوٹوں کا مجموعہ۔عِضِیْنٌ اورعِضُوْنَ عِضَۃٌ کی جمع ہیں اورعِضَۃٌ کالفظ عَضٰی یَعْضُوْاعَضْوًا سے بھی نکلا ہے جس کے معنے ٹکڑے کرنے کے ہوتے ہیںاورعَضَہَ یَعْضَہُ عَضْہًا