تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 372 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 372

فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِيْنَ۰۰۹۵ سو جس بات (کے پہنچانے)کاتجھے حکم دیاجاتاہے وہ کھو ل کر (لوگوں کو)بتادے اوران مشرکو ں (کی بات)سے اعراض کر۔حلّ لُغَات۔اِصْدَعْ:اِصْدَعَ صَدَعَ سے امر کاصیغہ ہے۔اورصَدَعَہٗ صَدْعًا کے معنے ہیں۔شَقَّہٗ۔کسی چیز کوپھاڑ دیا۔وَقِیْلَ شَقَّہُ بِنِصْفَیْنِ اوربعض نے کہا ہے کہ اس کودوحصوں میں تقسیم کردیا۔وَقِیْلَ شَقَّہٗ وَلَمْ یَفْتَرِقْ اوربعض کہتے ہیں کہ کسی چیز کو پھاڑ دیا لیکن و ہ دوٹکڑے نہ ہوئی۔صَدَعَ الْاَمْرَ۔کَشَفَہٗ وبَیَّنَہٗ: بات کوکھول دیا اورواضح کردیا۔صَدَعَ بِالْحَقِّ وَبِالْحُجَّۃِ:تَکَلَّمَ بِھَاجِھَارًا۔حق اورحجت کاعلی الاعلان اظہار کیا۔صَدَعَ بِالْاَمْرِ اَصَابَ بِہٖ مَوْضِعَہٗ وَجَاھَرَ بِہٖ مُصَرَّحًا کہ کسی کام کو برمحل کیا۔اوراس کی بآواز بلند تصریح کی صَدَعَ الْاَمْرَ بِالْحَقِّ۔فَصَلَہٗ۔کسی معاملہ کادرست فیصلہ کیا۔(اقرب) تفسیر۔فَاصْدَعْ میں اسلامی حکومت اور شریعت کے عملی اجراء کی خبر دی گئی ہے صَدَعَ بِالحقّ کے معنے حق کے ساتھ فیصلہ کرنے بھی ہوتے ہیں۔اورصَدَعَ کے معنے کھول کر بیان کرنے کے بھی ہوتے ہیں۔دونوں معنے یہاں چسپاں ہوتے ہیں۔اورآیت کامطلب یہ ہے کہ جب خدئی فیصلہ ان کی ہلاکت اورمسلمانوں کی ترقی کی نسبت جاری ہوچکا ہے تواس امر کو خوب کھول کھول کر انہیں سنادے اورمشرکوں سے بحث مباحثہ چھوڑ دے۔اسی طرح اس کا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے (اوریہی ان معنوں کے ساتھ زیادہ چسپاں ہوتاہے جومیں اوپر کی آیات کے بیان کرچکاہوں)کہ اب تُواللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق فیصلے کرنے شروع کر۔یعنے تجھے اب ہم ا س امر کا موقع دینے والے ہیں کہ شریعت کے تمام احکام کا اجراء عملاً شروع ہو جائے۔پس تواللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق فیصلوںکو جاری کردے اورمشرکوں کی پرواہ نہ کر اس آیت میں بھی گویا مدینہ کی ہجرت اوراسلامی حکومت کی خبر دی گئی ہے۔