تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 369 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 369

ک کے ان معنوں کے رو سے آیت کے معنے یہ ہوں گے کیونکہ ہم نے (عذاب) مُقْتَسِمِیْنَ پراُتاراہے۔آیت كَمَاۤ اَنْزَلْنَا الخ پہلی آیت سے متعلق ہے اوریہ آیت پہلی آیت سے متعلق سمجھی جائے گی۔اوردونوں آیتوںکا مطلب یہ ہوگا۔کہ اے محمد! صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم توان لوگوں سے کہہ دے کہ میں نذیر عریان ہوں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مقتسمین کے لئے یہ عذاب اُتارنے کافیصلہ کردیا ہے۔جیساکہ ظاہر ہے۔ان معنوں سے مفہوم بہت صاف ہو جاتا ہے۔لیکن اگر ک کے معنے ’’جس طرح‘‘ کئے جائیں تومطلب واضح نہیں رہتا۔کیونکہ اس صورت میں عبارت یہ بنتی ہے کہ ان سے کہہ دے میں نذیر عریان ہو ں۔جس طرح ہم نے مقتسمین پر اتاراہے۔یہ معنے جیساکہ ظاہر ہے کوئی صحیح مفہوم پیدا نہیں کرتے۔اسی وجہ سے مفسرین کو اس آیت کے معنے کرنے میں سخت دقت ہوئی ہے اورلمبی لمبی توجیہیں کرکے انہیں کوئی معنے نکالنے پڑے ہیں۔مفسرین کو اس آیت کے معنوں میں دقت مُقْتَسِمِیْنَ کے معنوں کے بارہ میں بھی مفسرین کوبڑی دقت پیش آئی ہے۔انہوں نے اس آیت کے معنے یہ کئے ہیں۔کہ جس طرح ہم نے ان پر عذاب اتاراہے۔جنہوںنے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھ دینے کی قسمیں کھائی ہوئی ہیں(الکشاف القرطبی زیر آیت کما انزلنا علی المقتسمین)۔بخاری میں بھی یہ معنی بیان کئے گئے ہیں (بخاری کتاب التفسیر سورۃ الحجر باب قولہ الذین جعلو ا القرآن عضین) مگر میرے نزدیک عربی زبان کی رو سے یہ معنے درست نہیں۔کیونکہ اِقْتَسَمَ کے معنے قسمیں کھانے کے نہیں ہیں۔بلکہ تقسیم کرنے کے ہیں۔چنانچہ اقرب میں ہے اِقْتَسَمُواالْمَالَ بَیْنَہُمْ ای اَخَذَ کُلٌّ قِسْمَہُ یعنے جب اِقْتَسمَ الْمَالَ کا لفظ بولیں تو اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ انہوں نے تقسیم کرلیا اور ہر اک نے اپنا اپنا حصہ لے لیا۔تاج العروس میں ہے تَقَاسَمَا الْمَالَ۔اِقْتَسَمَاہُ بَیْنَہُمَا یعنے تَقَاسَمَا الْمَالَ کہیں تو اس کے معنے اقْتَسَمَا کے یعنے آپس میں تقسیم کر لینے کے ہوتے ہیں۔غرض اِقْتَسمَ کے معنے تاج العروس میں تقسیم کرنے کے لکھے ہیں۔اقتسم کے معنی تقسیم کرنے کے ہیں اب سوال یہ ہے کہ پھر لوگوں کو یہ دھوکا کیونکر لگا کہ اس کے معنے باہم قسمیں کھانے کے ہوتے ہیںتو اس کا جواب یہ ہے کہ تَقَاسَما کے ایک معنے قسمیں کھانے کے ہیں اور دوسرے معنی تقسیم کرنے ہیں۔ان معنوں کوبتانے کے لئے اہل لغت لکھتے ہیں کہ تَقَاسَما اور اِقْتَسَما ہم معنے الفاظ ہیں۔ان کا مطلب یہ ہے کہ تَقَاسَما۔اقتَسَما کی طرح تقسیم کرنے کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔نہ یہ کہ اِقْتَسَمَ بھی تَقَاسَمَا کی طرح قسمیں کھانے کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔مفسّرین نے اس مشابہت سے دھوکا کھایا ہے حتّٰی کہ زمخشری جیسے ادیب نے بھی دھوکا کھا یا ہے میرے دعویٰ کی تصدیق تاج العروس کے ان الفاظ سے ہوتی ہے